"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ


 

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

تحقیق و تحریر: خصوصی رپورٹ (Voice of World Urdu) 

مطالعے کا دورانیہ: 10 سے 12 منٹ

​مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحراؤں اور جدید شہروں کے اوپر جب رات کی تاریکی میں ایرانی میزائلوں کی سرخ لکیریں نمودار ہوتی ہیں، تو زمین پر موجود کروڑوں انسانوں کے لیے یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں ہوتی۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب "ناقابلِ تسخیر" ہونے کے دعوے، اربوں ڈالر کے دفاعی نظام اور برسوں سے تیار کردہ سیاسی بیانیے (Narratives) ایک ساتھ خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اس بارود کی گونج سے بھی زیادہ خوفناک وہ "خاموشی" ہے جو ان حملوں کے فوراً بعد مسلط کر دی جاتی ہے۔

​گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جب ایران نے اسرائیل اور خطے کے دیگر حصوں پر میزائل داغے، تو سوشل میڈیا پر چند لمحوں کے لیے ایسی ویڈیوز نمودار ہوئیں جنہوں نے سرکاری بیانیے کے پرکھچے اڑا دیے۔ ان ویڈیوز میں نہ صرف میزائلوں کو ہدف پر گرتے دیکھا جا سکتا تھا، بلکہ اس خوف اور افرائطری کو بھی محسوس کیا جا سکتا تھا جسے عالمی میڈیا "سب ٹھیک ہے" کی گرد میں چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ ویڈیوز اپلوڈ ہوتے ہی غائب ہونا شروع ہو گئیں۔ متحدہ عرب امارات (UAE) اور قطر جیسے ممالک سے ایسی خبریں آئیں کہ ان شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے ان مناظر کو اپنے موبائل کیمروں میں قید کیا تھا۔

ابراہیمی معاہدہ: ایک نیا تزویراتی رخ

اس ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کی جڑیں 2020 میں ہونے والے "ابراہیمی معاہدے" (Abraham Accords) میں پیوست ہیں۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ نہ صرف سفارتی تعلقات قائم کیے، بلکہ ایک ایسے "غیر اعلانیہ دفاعی بلاک" کی بنیاد رکھی جس کا مرکز ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔

​یہ معاہدہ محض تجارت تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک "علاقائی دفاعی اتحاد" (Regional Defense Alliance) بنا رہے ہیں، اور دوسری طرف ایران اور اس کے اتحادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایرانی میزائل اسرائیل کی طرف بڑھتے ہیں، تو یہ عرب ممالک انہیں اپنے لیے بھی خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ان حکومتوں کے لیے ان حملوں کی ویڈیوز کا پھیلنا ان کے اس سیاسی فیصلے کی ناکامی سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہ سنسر شپ کا سہارا لیتے ہیں۔

میزائل ڈیفنس میں تعاون اور خاموش شراکت داری

بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کے حالیہ حملوں کو روکنے میں ان عرب ممالک کے ریڈار سسٹمز اور انٹیلی جنس شیئرنگ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے زیرِ اثر یہ ممالک ایک ایسے مشترکہ دفاعی نیٹ ورک کا حصہ بن چکے ہیں جہاں اسرائیل کی حفاظت براہِ راست ان کے اپنے سیکیورٹی مفادات سے جڑ گئی ہے۔

​جب ایک عام شہری اپنے موبائل سے یہ ویڈیو اپلوڈ کرتا ہے کہ میزائل کسی ایئر بیس پر گرا ہے، تو وہ دراصل اس مشترکہ دفاعی ڈھال (Shield) کی کمزوری کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیتا ہے۔ یہی وہ "سچ" ہے جس سے بچنے کے لیے یو اے ای اور قطر جیسے ممالک نے سخت سائبر قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔ ان قوانین کے تحت "قومی سلامتی" کی تشریح اس قدر وسیع کر دی گئی ہے کہ ایک سادہ سی ویڈیو بھی ریاست کے خلاف جرم بن جاتی ہے۔

بیانیے کی جنگ: بارود سے زیادہ خطرناک سچ

مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت ایک ایسی جنگ لڑی جا رہی ہے جس کا محاذ میدانِ جنگ نہیں بلکہ انسانی دماغ ہے۔ اسرائیل یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کا 'آئرن ڈوم' اور 'ایرو' سسٹم ہر خطرے کو فضا میں ہی ختم کر دیتا ہے۔ اگر کسی عام شہری کی ویڈیو میں یہ نظر آ جائے کہ میزائل کسی اہم فوجی تنصیب پر گرا ہے، تو یہ صرف ایک عمارت کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس 'نفسیاتی برتری' کا خاتمہ ہوتا ہے جس کے بل بوتے پر اسرائیل خطے میں اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہے۔

​یہی حال ان عرب ممالک کا ہے جو ایران اور اسرائیل کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی اپنی عوام یہ دیکھے کہ ان کی سرزمین کس طرح اس تصادم کا حصہ بن رہی ہے۔ یہ گرفتاریاں دراصل اس خوف کا نتیجہ ہیں کہ کہیں عوام میں اسرائیل کے ساتھ اس "خاموش اتحاد" کے خلاف اشتعال نہ پیدا ہو جائے۔

بلیک آؤٹ کا شکار کون؟

اس تمام تر سنسر شپ اور بلیک آؤٹ کا سب سے بڑا شکار وہ عام انسان ہے جو سچ جاننے کا حق رکھتا ہے۔ ایک طرف تہران میں انٹرنیٹ بند کر دیا جاتا ہے تاکہ احتجاج کی آواز باہر نہ جائے، اور دوسری طرف اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں 'قومی مفاد' اور 'ابراہیمی معاہدے کے استحکام' کے نام پر سچ کو سینسر کر دیا جاتا ہے۔

​جدید ٹیکنالوجی، جسے آزادیِ اظہار کا ذریعہ بننا تھا، اب نگرانی اور کنٹرول کا آلہ بن چکی ہے۔ وہ ویڈیوز جو چند سیکنڈز کے لیے اسکرین پر آتی ہیں اور پھر مٹا دی جاتی ہیں، دراصل وہ سچ ہیں جسے طاقتور ریاستیں تاریخ سے حذف کرنا چاہتی ہیں۔

​البرٹ کامیو نے کہا تھا کہ "سچ کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن اسے ختم نہیں کیا جا سکتا"۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ حالیہ بلیک آؤٹ ثابت کر رہا ہے کہ اب جنگیں صرف میزائلوں سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ اس سچ کو قید کر کے جیتی جاتی ہیں جو پروپیگنڈا کی دیواروں کو گرا سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی