"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

​وہ جو شیشوں کے درمیاں قید رہ گئی

 وائس آف ورلڈ اردو 

وہ جو شیشوں کے درمیاں قید رہ گئی

وائس آف ورلڈ اردو کی خصوصی پیشکش

​رات کی سیاہی جب گہری ہوتی ہے اور پرانی فلم کی ریل گھومنے لگتی ہے، تو ایک ایسا ہیولیٰ ابھرتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قدرت نے اسے مٹی سے نہیں بلکہ چاند کی ٹھنڈک اور سنگِ مرمر کی نزاکت سے تیار کیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو بلیک اینڈ وائٹ فریم کے اندھیروں میں بھی اپنا رستہ بنا لیتی تھی، لیکن اسی چمک کے پیچھے ایک گہرا ملال بھی بستا تھا، جیسے کوئی طوفان خاموشی سے ساحل کی تلاش میں ہو۔

​وہ کبھی شہنشاہوں کے دربار میں بغاوت کا استعارہ بنی تو کبھی بھاری زنجیروں میں جکڑی ایک ایسی روح، جس کی چیخ موسیقی کے سروں میں دب کر رہ گئی۔ تاریخ کے حوالے بتاتے ہیں کہ جب وہ مسکراتی تھی تو پھول جھڑتے تھے، لیکن جب وہ خاموش ہوتی تھی تو سکرین پر بکھرے سائے بھی اداس ہو جاتے تھے۔ اسے 'مشرق کی وینس' کہا گیا، ایک ایسا خواب جسے وقت کی بے رحم لہروں نے بہت جلد ہم سے چھین لیا۔

​اس کی زندگی کے اسکرپٹ میں عروج تو تھا، مگر سکون کی سطریں غائب تھیں۔ وہ ایک ایسے دل کی مالکن تھی جو خود اس کے وجود سے بے وفائی کر رہا تھا، مگر اس ٹوٹتے ہوئے دل کے ساتھ اس نے جو رقص کیا، اس نے زمانے کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ شیش محل کے ہزاروں آئینوں میں اس کا عکس آج بھی اس ایک سچ کی تلاش میں بھٹک رہا ہے جو اس نے بھری محفل میں گایا تھا کہ 'جب پیار کیا تو ڈرنا کیا'۔

​وہ حسن جو ایک معمہ بن کر رہا، وہ آواز جو خاموش ہو کر بھی گونجتی ہے، اور وہ عکس جو تاریخ کے اندھیروں میں آج بھی روشن ہے؛ وہ کوئی اور نہیں، حسن کی لافانی ملکہ مدھوبالا تھی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی