"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| وائس آف ورلڈ اردو |
رات کی سیاہی جب گہری ہوتی ہے اور پرانی فلم کی ریل گھومنے لگتی ہے، تو ایک ایسا ہیولیٰ ابھرتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قدرت نے اسے مٹی سے نہیں بلکہ چاند کی ٹھنڈک اور سنگِ مرمر کی نزاکت سے تیار کیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو بلیک اینڈ وائٹ فریم کے اندھیروں میں بھی اپنا رستہ بنا لیتی تھی، لیکن اسی چمک کے پیچھے ایک گہرا ملال بھی بستا تھا، جیسے کوئی طوفان خاموشی سے ساحل کی تلاش میں ہو۔
وہ کبھی شہنشاہوں کے دربار میں بغاوت کا استعارہ بنی تو کبھی بھاری زنجیروں میں جکڑی ایک ایسی روح، جس کی چیخ موسیقی کے سروں میں دب کر رہ گئی۔ تاریخ کے حوالے بتاتے ہیں کہ جب وہ مسکراتی تھی تو پھول جھڑتے تھے، لیکن جب وہ خاموش ہوتی تھی تو سکرین پر بکھرے سائے بھی اداس ہو جاتے تھے۔ اسے 'مشرق کی وینس' کہا گیا، ایک ایسا خواب جسے وقت کی بے رحم لہروں نے بہت جلد ہم سے چھین لیا۔
اس کی زندگی کے اسکرپٹ میں عروج تو تھا، مگر سکون کی سطریں غائب تھیں۔ وہ ایک ایسے دل کی مالکن تھی جو خود اس کے وجود سے بے وفائی کر رہا تھا، مگر اس ٹوٹتے ہوئے دل کے ساتھ اس نے جو رقص کیا، اس نے زمانے کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ شیش محل کے ہزاروں آئینوں میں اس کا عکس آج بھی اس ایک سچ کی تلاش میں بھٹک رہا ہے جو اس نے بھری محفل میں گایا تھا کہ 'جب پیار کیا تو ڈرنا کیا'۔
وہ حسن جو ایک معمہ بن کر رہا، وہ آواز جو خاموش ہو کر بھی گونجتی ہے، اور وہ عکس جو تاریخ کے اندھیروں میں آج بھی روشن ہے؛ وہ کوئی اور نہیں، حسن کی لافانی ملکہ مدھوبالا تھی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں