"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

تاریخ کا جبر اور طیارہ ہائی جیکنگ کیس: جب ایک فیصلے نے پاکستان کا رخ بدل دیا

9 April Plane Hijack Voice of World Urdu 

تاریخ کا جبر اور طیارہ ہائی جیکنگ کیس: جب ایک فیصلے نے پاکستان کا رخ بدل دیا

تحریر کا دورانیہ : 7 منٹ 

​پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 12 اکتوبر 1999 کی شام ایک ایسے موڑ کے طور پر درج ہے جس نے نہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کیا بلکہ ملک کے عدالتی اور سیاسی ڈھانچے پر بھی انمٹ نقوش چھوڑے۔ اس رات پیش آنے والے واقعات، جنہیں بعد ازاں "طیارہ ہائی جیکنگ کیس" کا نام دیا گیا، اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر گئے جب اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے سری لنکا سے وطن واپس آنے والے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو کراچی ایئرپورٹ پر اترنے سے روکنے کا حکم دیا۔ "بی بی سی" اور دیگر عالمی خبر رساں اداروں کی ریکارڈز کے مطابق، پی آئی اے کی پرواز PK-805 جس میں 200 کے قریب مسافر سوار تھے، فضا میں اس وقت تک چکر کاٹتی رہی جب تک اس کا ایندھن خطرناک حد تک کم نہ ہو گیا۔ اس ایک فیصلے نے ملک میں نہ صرف تیسرے مارشل لاء کی راہ ہموار کی بلکہ ایک منتخب وزیرِ اعظم کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا جہاں ان پر اغوا، قتل کی کوشش اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔

​اس کیس کی سماعت کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جو دلائل پیش کیے گئے، وہ پاکستانی سیاست کے اس تلخ تضاد کو ظاہر کرتے ہیں جہاں اقتدار کی رسہ کشی قانونی موشگافیوں میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔ استغاثہ کا موقف تھا کہ طیارے کو اترنے کی اجازت نہ دینا دراصل سینکڑوں معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا، جبکہ دفاعی وکلاء اسے ایک سیاسی انتقام قرار دیتے رہے جو فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے رچایا گیا تھا۔ اپریل 2000 میں جب عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا تو نواز شریف کو طیارہ اغوا کرنے کے جرم میں دو بار عمر قید کی سزا سنائی گئی، جو اس وقت کی عالمی اور مقامی سیاست میں ایک دھماکہ خیز خبر تھی۔ "نیویارک ٹائمز" کی اس دور کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ فیصلہ پاکستان میں سویلین بالادستی اور عسکری قوت کے درمیان جاری کشمکش کا ایک فیصلہ کن لمحہ تھا، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ یہاں تخت سے جیل تک کا سفر محض چند گھنٹوں کی دوری پر ہوتا ہے۔

​تاہم، تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس سزا کو حتمی سمجھا جا رہا تھا، وہ جلد ہی ایک خفیہ سعودی معاہدے کے نتیجے میں جلاوطنی میں بدل گئی اور برسوں بعد جب اعلیٰ عدالتوں نے اس کیس کا دوبارہ جائزہ لیا تو نواز شریف کو ان الزامات سے بری کر دیا گیا۔ 2009 میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس حقیقت پر مہر ثبت کی کہ طیارہ ہائی جیکنگ کیس کے اصل حقائق وہ نہیں تھے جو اس وقت کے مقتدر حلقوں نے پیش کیے تھے۔ یہ کیس آج بھی پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک ایسی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جہاں قانون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ یہ محض ایک فرد کی سزا کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ اس نظام کی عکاسی ہے جہاں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی مجرم اور ہیرو کے درمیان کی لکیر دھندلا جاتی ہے اور سچائی کہیں نہ کہیں فائلوں اور جلاوطنی کے معاہدوں کے بوجھ تلے دبی رہ جاتی ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی