"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
تحریر : علی رضا
تحریر کا دورانیہ: 06 منٹ
رات کے اس پہر جب شہر کی روشنیاں مدھم پڑ جاتی ہیں، سکرین سے نکلنے والی سفید روشنی چہرے پر لکیریں سی بنا دیتی ہے۔ سامنے میز پر پڑی وہ پرانی ہارڈ ڈرائیو محض لوہے اور پلاسٹک کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ رازوں کی ایک ایسی بستی ہے جسے اس کے مالک نے 'خاموش' سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک بٹن دبانے سے ان کا ماضی، ان کی غلطیاں اور ان کے گناہ مٹ گئے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس مٹیالی دنیا میں کچھ بھی مکمل طور پر کبھی نہیں مرتا۔ وہ صرف اوجھل ہوتا ہے، کسی گہری کھائی میں دب جاتا ہے، ایک ایسی بازگشت کی طرح جو سنائی نہیں دیتی مگر فضا میں موجود رہتی ہے۔
تحقیق کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جسے ہم 'خالی جگہ' سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک لبریز قبرستان ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جب آپ کسی فائل کو مٹاتے ہیں، تو سسٹم صرف اس کا پتہ (Address) پھاڑ دیتا ہے، لیکن وہ تحریر وہیں موجود رہتی ہے، ساکت اور منتظر۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کتاب کے فہرست والے صفحے سے باب کا نام کاٹ دیا جائے، مگر کتاب کے اندر وہ باب جوں کا توں موجود رہے۔ یہ ڈیجیٹل وجود تب تک وہیں سانس لیتا رہتا ہے جب تک کوئی نئی کہانی اس کے اوپر نہ لکھ دی جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک کھوجی کی نظر پڑتی ہے، جہاں خاموشی بولنے لگتی ہے۔
اس اندھیری کھوج میں جب ہم گہرائی تک پہنچتے ہیں، تو ایسی فائلیں سامنے آتی ہیں جنہیں مٹے ہوئے برسوں بیت چکے ہوتے ہیں۔ ایک دھندلی سی تصویر، ایک ادھورا خط، یا کسی بینک ٹرانزیکشن کا وہ نشان جسے مٹانے کے لیے کسی نے بڑی تگ و دو کی تھی۔ حوالہ جات بتاتے ہیں کہ فارنزک سائنس میں اسے 'ڈیٹا کارونگ' کہا جاتا ہے—یعنی بکھرے ہوئے ریشوں سے دوبارہ زندگی کا کپڑا بننا۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ آپ کا سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ آپ کے بارے میں اس سے کہیں زیادہ جانتا ہے جتنا آپ خود یاد رکھنا چاہتے ہیں۔
یہ بازاروں میں بکنے والے سستے استعمال شدہ موبائل فون دراصل بکتے ہوئے ضمیر اور افشا ہوتے راز ہیں۔ لوگ اپنی زندگیوں کو ایک 'ری سیٹ' کے بٹن کے پیچھے چھپا کر مطمئن ہو جاتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر عمل کا ایک عکس باقی رہ جاتا ہے۔ اس تحقیقات کا مقصد کسی کی پرائیویسی میں جھانکنا نہیں، بلکہ اس دھوکے کو بے نقاب کرنا ہے کہ آپ کا ڈیٹا آپ کے حکم کا پابند ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں جہاں مٹایا ہوا سچ، لکھے ہوئے جھوٹ سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
کافی معلوماتی بلاگ ہے۔
جواب دیںحذف کریں