"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

​"خونابِ ہرمز اور سفید محل کا فرعون: طاقت کی نفسیات کا ایک تاریک مطالعہ"

Trump vs Iran Voice of World Urdu 

 

"خونابِ ہرمز اور سفید محل کا فرعون: طاقت کی نفسیات کا ایک تاریک مطالعہ"

 تحریر: علی رضا

(Voice of World Urdu)

اپریل 2026 کی ہوائیں کسی پرانی "نوائیر" فلم کے اس منظر جیسی ہیں جہاں ہیرو اور ولن کے درمیان تمیز مٹ جاتی ہے اور صرف بقا کا کھیل باقی رہ جاتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے راہداریوں سے اٹھنے والی گونج اب صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ "طاقت کے نشے" کی وہ عملی تصویر بن چکی ہے جس کی پیشگوئی ماہرینِ نفسیات دہائیوں پہلے کر چکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکی کہ "منگل کا دن ایران کے لیے پاور پلانٹ اور برج ڈے ہوگا"، محض ایک فوجی حکمت عملی نہیں بلکہ اس نفسیاتی کیفیت کا اظہار ہے جسے ہائبرس (Hubris) کہا جاتا ہے—یعنی وہ تکبر جو انسان کو حقیقت سے دور کر کے خود کو ناگزیر سمجھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

لارڈ ایکٹن کا وہ مشہور حوالہ کہ "مطلق طاقت انسان کو مطلق طور پر کرپٹ کر دیتی ہے"، آج کی صورتحال پر صادق آتا ہے۔ جب ٹرمپ سوشل میڈیا پر مغلظات کے ساتھ ایران کو "جہنم" دکھانے کا وعدہ کرتے ہیں، تو یہ اس Mirror Neuron کی خاموشی کا ثبوت ہے جس کا ذکر پروفیسر ڈیکر کیلٹنر نے کیا تھا۔ طاقت جب اپنے عروج پر پہنچتی ہے، تو وہ مخالف کو ایک انسان کے بجائے محض ایک "ہدف" کے طور پر دیکھنے لگتی ہے۔

​ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ 37 روزہ جنگ اب آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے گرد گھوم رہی ہے۔ عالمی معیشت کی شہ رگ پر گرفت مضبوط کرنے کی یہ تگ و دو میکیاولی کے اس فلسفے کی یاد دلاتی ہے کہ:

​"ایک حکمران کے لیے یہ بہتر ہے کہ لوگ اس سے ڈریں، بجائے اس کے کہ وہ اس سے محبت کریں۔"

​ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ ایران کو "پتھر کے دور" میں دھکیل دیں گے، اسی خوف کی نفسیات کو جنم دینے کی کوشش ہے۔ لیکن یہاں "میجیکل جرنلزم" کا پہلو یہ ہے کہ جہاں ایک طرف سپر پاور اپنی پوری طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف عالمی تیل کی قیمتیں 111 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں اور امریکی عوام میں 25 ویں ترمیم کے ذریعے صدر کی برطرفی کی بحث چھڑ چکی ہے۔ یہ طاقت کا وہ تضاد ہے جہاں سب سے طاقتور انسان خود اپنے ہی ملک میں کمزور ترین پوزیشن پر بھی آ سکتا ہے۔

​برطانوی تھنک ٹینک کے ڈاکٹر اینڈریو پین کے مطابق، ٹرمپ اس وقت اپنی طاقت کے اس نقطے پر ہیں جہاں وہ خود کو قانون اور روایت سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب طاقت کا نشہ بصیرت چھین لیتا ہے، تو فیصلے میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ نفسیاتی الجھنوں میں ہارے جاتے ہیں۔ ایران کا یہ جواب کہ "عالمی توانائی کا بہاؤ ایک اشارے پر رک سکتا ہے"، اس بات کی علامت ہے کہ طاقت اب صرف ٹینکوں اور جہازوں میں نہیں، بلکہ اس "خوف" میں ہے جو مخالف کے دل میں بٹھایا جا سکے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی