"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| جنگ کے پسِ پردہ معاشی مفادات - وائس آف ورلڈ اردو |
آسمان سے برستے میزائل اور زمین سے اٹھتا بارود کا دھواں کسی کے لیے قیامت کا منظر ہے تو کسی کے لیے تجارتی منڈی کا نیا کھلتا ہوا راستہ۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والی اس حالیہ جنگ نے جہاں انسانی جانوں کے چراغ گل کیے، وہیں کچھ تاریک گوشوں میں بیٹھے کھلاڑیوں کی تجوریاں بھرنا شروع کر دیں۔ اس جنگ کے پسِ پردہ حقائق بتاتے ہیں کہ جب دنیا کی نظریں ملبے تلے دبی زندگیوں پر جمی تھیں، تب کچھ طاقتیں اس انسانی المیے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے بڑا فائدہ ان دفاعی کمپنیوں کو ہوا جن کا کاروبار ہی انسانی لہو اور بارود کی بو سے جڑا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، اس مختصر دورانیے کی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے صرف دفاعی میزائلوں اور فضائی حملوں پر تقریباً 4 سے 6 ارب ڈالر کا اسلحہ جھونک دیا۔ اس کا براہِ راست فائدہ ان عالمی اسلحہ ساز اداروں کو ہوا جن کے شیئرز میں راتوں رات 10 سے 12 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے لیے یہ محاذ آرائی صرف ایک تزویراتی جنگ نہیں بلکہ ان کی نئی ٹیکنالوجی اور مہنگے دفاعی نظاموں کا ایک کھلا اشتہار بن گئی۔
دوسری جانب، تزویراتی طور پر روس نے اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ جب مغرب کا پورا زور مشرقِ وسطیٰ میں صرف ہوا، تو روس کے لیے یوکرین کے محاذ پر دباؤ میں واضح کمی آئی۔ یہی نہیں، بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جو 80 ڈالر سے اچانک 95 یا 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھونے لگیں، اس نے روس کی معیشت کو وہ آکسیجن فراہم کی جس کی اسے بین الاقوامی پابندیوں کے دور میں اشد ضرورت تھی۔ تیل کی اس قیمت میں 15 سے 20 فیصد کا یہ اچانک اضافہ روس کے لیے کسی معاشی معجزے سے کم نہیں تھا۔
چین نے اس پوری فلم میں ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا، لیکن اس کی خاموشی کے پیچھے گہری چالیں پوشیدہ تھیں۔ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں اس نئی مصروفیت نے چین کو بحرِ الکاہل اور تائیوان جیسے حساس علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کا سنہری موقع دیا۔ جیو پولیٹیکل ماہرین کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب امریکہ ایک محاذ پر الجھتا ہے، تو چین خاموشی سے عالمی تجارت اور علاقائی اثر و رسوخ کے نئے معاہدے سمیٹ لیتا ہے۔ اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ بارود کے اس کھیل میں صرف وہی نہیں جیتے جو میدان میں ہیں، بلکہ وہ زیادہ منافع میں رہے جو سائے میں بیٹھ کر مہریں ہلا رہے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں