"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu Human Struggle |
تحریر: علی رضا
ہم جس دور میں جی رہے ہیں، یہاں ہر انسان اپنے کندھوں پر ایک نہیں، پانچ پانچ بندوں کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے۔ چاہے وہ تپتی سڑک پر ریڑھی کھینچنے والا مزدور ہو جو شام کی روٹی کے لیے اپنی ہڈیوں کا گودا جلاتا ہے، یا وہ دفتر کی کرسی پر بیٹھا شخص جو فائلوں اور ڈیڈ لائنز کے نیچے اپنی مسکراہٹ دفن کر چکا ہے—ہم سب ایک ہی چکی کے دو پاٹ ہیں۔ ہم سب وہ مسافر ہیں جنہیں منزل کا تو پتہ نہیں، مگر بھاگنا ہماری مجبوری بنا دیا گیا ہے۔
کبھی کبھی ایسا وقت آتا ہے جب جسم جواب دے دیتا ہے۔ جب آپ کو لگتا ہے کہ اب مزید ایک قدم بھی نہیں چلا جائے گا۔ پھر آپ سب کچھ چھوڑ کر، دنیا سے ناتا توڑ کر، اس اندھیرے بستر میں پناہ ڈھونڈتے ہیں جہاں نہ کوئی کام ہو، نہ کوئی سوال، اور نہ ہی کوئی نوکری کا بوجھ۔ وہ نیند دراصل آرام نہیں ہوتی، وہ اس بے رحم نظام کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہوتا ہے جو ہمیں انسان سے مشین بنا چکا ہے۔
ہم جن محفلوں میں بیٹھتے ہیں، وہ اکثر ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان میں کیڑے نکالتی ہیں۔ آپ اپنا کوئی خواب، کوئی آئیڈیا کسی کے سامنے رکھیں تو وہ اسے پروان چڑھانے کے بجائے اسے وہیں ڈھیر کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم بھیڑ سے ڈرنے لگے ہیں۔ اب ہمیں محفلیں نہیں، تنہائی اچھی لگتی ہے۔ وہ تنہائی جہاں کوئی ہمیں جج نہ کرے، جہاں ہمیں کسی کو صفائیاں نہ دینی پڑیں کہ ہم تھکے ہوئے کیوں ہیں۔
یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو دن بھر اپنی ضرورتوں کے لیے کام کرتا ہے اور رات کو اپنے ادھورے شوق کی چادر اوڑھ کر سو جاتا ہے۔ ہم "عشق" اور "کام" کی اس جنگ میں اتنے الجھ گئے ہیں کہ اب ہمیں صرف وہ خاموشی سکون دیتی ہے جو ہمیں اپنے آپ سے ملاتی ہے۔
شاید اکیلا رہنا کوئی بیماری نہیں، بلکہ اس شور زدہ دنیا میں خود کو بچانے کا آخری طریقہ ہے۔ جب آپ آئینے میں خود کو دیکھیں، تو یاد رکھیں کہ آپ صرف ایک ورکر یا ایک مزدور نہیں ہیں، آپ ایک جیتا جاگتا احساس ہیں جس کی اپنی ایک آواز ہے، چاہے وہ آواز اس وقت صرف خاموشی میں ہی کیوں نہ گونج رہی ہو۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں