"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Iran US Meeting Islamabad 2026 |
مارگلہ کی پہاڑیوں سے اترتی ہوئی دھند نے آج اسلام آباد کے ریڈ زون کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سفارت کاری کے بند کمروں میں چھپے ہوئے حقائق پر مصلحتوں کے دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں۔ شاہراہِ دستور پر سائرن بجاتی کالی گاڑیوں کے قافلے جب سیکیورٹی کے آہنی حصاروں کو عبور کرتے ہیں، تو فضا میں پھیلا ہوا تناؤ 1971 کے اس جولائی کی یاد دلاتا ہے جب راولپنڈی کی ایک بھیگی رات نے خاموشی سے دنیا کا جغرافیہ بدل دیا تھا۔ اس وقت بھی دنیا لاعلم تھی کہ پاکستان کے فراہم کردہ ایک 'خفیہ پل' کے ذریعے ہنری کسنجر پیکنگ پہنچ کر امریکہ اور چین کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلا رہے ہیں۔ تاریخ کا وہ خفیہ سفر آج پھر ایک نئے روپ میں اسلام آباد کی سڑکوں پر رینگتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
آج، 10 اپریل 2026 کی اس پراسرار شام کو تہران اور واشنگٹن کے نمائندے ایک بار پھر اسی سرزمین پر آمنے سامنے ہیں جہاں کبھی 'پنگ پونگ ڈپلومیسی' کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ لیکن اس میز پر بیٹھنے والے جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف کے درمیان صرف فاصلہ نہیں، بلکہ 1953 کی وہ تلخ یادیں بھی موجود ہیں جب 'آپریشن ایجیکس' کے نام پر سی آئی اے نے تہران کی سڑکوں پر ایک منتخب عوامی حکومت کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ ایران کے وزیراعظم محمد مصدق کا جرم صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنے ملک کا تیل اپنوں کے لیے بچانا چاہا، مگر طاقت کی بساط پر انہیں ہٹا کر شاہِ ایران کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے ایرانیوں کے دل میں وہ بیج بویا گیا جس نے 1979 میں ایک انقلاب کی شکل اختیار کر لی۔
اس ملاقات کے پس منظر میں وہ 444 دن بھی کسی بھوت کی طرح منڈلا رہے ہیں، جب نومبر 1979 میں مشتعل ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے کی دیواریں پھلانگ کر 52 امریکیوں کو قید کر لیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ 444 دنوں تک جاری رہنے والے اس 'یرغمالی بحران' نے سپر پاور کے تکبر کو وہ زخم دیے تھے جو آج بھی واشنگٹن کی راہداریوں میں ٹیسیں اٹھاتے ہیں۔ تب سے اب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان جو '404 ایرر' یعنی رابطے کی گمشدگی رہی، آج اسلام آباد اسے بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شاہراہِ دستور پر لگی فلڈ لائٹس کی مدھم روشنی میں یہ منظر کسی ایسی کہانی جیسا لگتا ہے جس کا انجام ابھی لکھنا باقی ہے۔ کیا پاکستان ایک بار پھر تاریخ کا وہ سب سے بڑا 'خفیہ پل' تعمیر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ جواب ریڈ زون کی ان دیواروں کے پیچھے قید ہے، جہاں وقت تھم چکا ہے اور تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کے لیے تیار کھڑی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں