"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

اسلام آباد کا ریڈ زون: کیا تاریخ کا سب سے بڑا 'خفیہ پل' دوبارہ تعمیر ہو رہا ہے؟

Iran US Meeting Islamabad 2026

 اسلام آباد کا ریڈ زون: کیا تاریخ کا سب سے بڑا 'خفیہ پل' دوبارہ تعمیر ہو رہا ہے؟

تحریر کا دورانیہ: 08 منٹ 

وائس آف ورلڈ اردو

​مارگلہ کی پہاڑیوں سے اترتی ہوئی دھند نے آج اسلام آباد کے ریڈ زون کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے، بالکل اسی طرح جیسے سفارت کاری کے بند کمروں میں چھپے ہوئے حقائق پر مصلحتوں کے دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں۔ شاہراہِ دستور پر سائرن بجاتی کالی گاڑیوں کے قافلے جب سیکیورٹی کے آہنی حصاروں کو عبور کرتے ہیں، تو فضا میں پھیلا ہوا تناؤ 1971 کے اس جولائی کی یاد دلاتا ہے جب راولپنڈی کی ایک بھیگی رات نے خاموشی سے دنیا کا جغرافیہ بدل دیا تھا۔ اس وقت بھی دنیا لاعلم تھی کہ پاکستان کے فراہم کردہ ایک 'خفیہ پل' کے ذریعے ہنری کسنجر پیکنگ پہنچ کر امریکہ اور چین کے درمیان جمی ہوئی برف پگھلا رہے ہیں۔ تاریخ کا وہ خفیہ سفر آج پھر ایک نئے روپ میں اسلام آباد کی سڑکوں پر رینگتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

​آج، 10 اپریل 2026 کی اس پراسرار شام کو تہران اور واشنگٹن کے نمائندے ایک بار پھر اسی سرزمین پر آمنے سامنے ہیں جہاں کبھی 'پنگ پونگ ڈپلومیسی' کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ لیکن اس میز پر بیٹھنے والے جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف کے درمیان صرف فاصلہ نہیں، بلکہ 1953 کی وہ تلخ یادیں بھی موجود ہیں جب 'آپریشن ایجیکس' کے نام پر سی آئی اے نے تہران کی سڑکوں پر ایک منتخب عوامی حکومت کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ ایران کے وزیراعظم محمد مصدق کا جرم صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنے ملک کا تیل اپنوں کے لیے بچانا چاہا، مگر طاقت کی بساط پر انہیں ہٹا کر شاہِ ایران کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے ایرانیوں کے دل میں وہ بیج بویا گیا جس نے 1979 میں ایک انقلاب کی شکل اختیار کر لی۔

​اس ملاقات کے پس منظر میں وہ 444 دن بھی کسی بھوت کی طرح منڈلا رہے ہیں، جب نومبر 1979 میں مشتعل ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے کی دیواریں پھلانگ کر 52 امریکیوں کو قید کر لیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ 444 دنوں تک جاری رہنے والے اس 'یرغمالی بحران' نے سپر پاور کے تکبر کو وہ زخم دیے تھے جو آج بھی واشنگٹن کی راہداریوں میں ٹیسیں اٹھاتے ہیں۔ تب سے اب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان جو '404 ایرر' یعنی رابطے کی گمشدگی رہی، آج اسلام آباد اسے بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شاہراہِ دستور پر لگی فلڈ لائٹس کی مدھم روشنی میں یہ منظر کسی ایسی کہانی جیسا لگتا ہے جس کا انجام ابھی لکھنا باقی ہے۔ کیا پاکستان ایک بار پھر تاریخ کا وہ سب سے بڑا 'خفیہ پل' تعمیر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ جواب ریڈ زون کی ان دیواروں کے پیچھے قید ہے، جہاں وقت تھم چکا ہے اور تاریخ اپنے آپ کو دہرانے کے لیے تیار کھڑی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی