ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات: عالمی سفارت کاری کا اہم امتحان: سیف الرحمن سیفی کی خصوصی رپورٹ
![]() |
| تصویر بشکریہ city 41 |
تحریر: والئس آف ورلڈ (نیوز ڈیسک)
ٹیگ لائن: The Twist of Tim
رمضان المبارک کا مہینہ جہاں صبر، شکر اور تقویٰ کا پیغام لاتا ہے، وہیں حالیہ برسوں میں یہ مہینہ ایک عالمی معاشی بحران کی لپیٹ میں بھی نظر آ رہا ہے۔ دنیا بھر میں بسنے والے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے لیے اس بار سحر و افطار کی میزیں مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مہنگائی کا یہ جن صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے چند عالمی عوامل کارفرما ہیں:
اگر ہم اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو صورتحال کچھ یوں نظر آتی ہے:
تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خوراک کی فراہمی اور قیمتوں کا کنٹرول ہمیشہ سے ایک مستحکم ریاست کی نشانی رہا ہے۔ شیر شاہ سوری کے دور میں سڑکوں کے جال اور سرائیوں کا قیام اسی لیے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ رسد و طلب میں توازن برقرار رہے اور قحط یا مہنگائی جیسے بحرانوں سے بچا جا سکے [cite: 2025-12-03]۔ آج کے جدید دور میں اس "مینجمنٹ" کی کمی واضح محسوس کی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی صحافت کے نقطہ نظر سے اس بحران کا حل صرف سرکاری چھاپوں میں نہیں، بلکہ درج ذیل اقدامات میں ہے.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں