'فری' سوشل میڈیا کی اصل قیمت: وائس آف ورلڈ اردو کی خصوصی رپورٹ

تصویر
  فری' سوشل میڈیا کی اصل قیمت  وائس آف ورلڈ اردو کی خصوصی رپورٹ  تحریر کا دورانیہ: 4 منٹ سلیکون ویلی کا یہ مشہور قول کہ "اگر آپ کسی پروڈکٹ کے لیے پیسے ادا نہیں کر رہے تو دراصل آپ خود وہ پروڈکٹ ہیں" محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس ڈیجیٹل عہد کا سب سے بڑا نوحہ ہے جسے ہم 'مفت سوشل میڈیا' کے نام پر جی رہے ہیں۔ ہم روزانہ صبح اٹھ کر جس فیس بک، انسٹاگرام یا واٹس ایپ کو سہولت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ درحقیقت دنیا کی مہنگی ترین تجارت کا وہ حصہ ہیں جہاں کرنسی روپیہ یا ڈالر نہیں بلکہ آپ کی زندگی کے لمحات، آپ کی ترجیحات اور آپ کا قیمتی ڈیٹا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسانیت نے کبھی بھی اتنی بڑی قیمت کسی سہولت کے لیے ادا نہیں کی جتنی آج کا صارف دے رہا ہے، جس کا اعتراف آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیقات میں بھی ملتا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز آپ کے نفسیاتی پروفائل کو اس حد تک سمجھ چکے ہیں کہ وہ آپ کے اگلے قدم کی پیشگوئی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شوشانہ زوبوف اپنی شہرہ آفاق تحریر "The Age of Surveillance Capitalism" میں اس حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ یہ کمپنیاں آپ کے ڈی...

صدر کا دورہ چین: سفارتی ترجیحات اور معاشی شراکت داری کے حقیقی محرکات

Saif ur Rehman Saifi 

 

صدر کا دورہ چین: سفارتی ترجیحات اور معاشی شراکت داری کے حقیقی محرکات

سیف الرحمن سیفی کا خصوصی بلاگ 
تحریر کا دورانیہ:3 منٹ 
پاکستان اور چین کے تعلقات میں حالیہ دنوں میں ایک نئی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، جس کا مرکز صدرِ مملکت کا دورہ بیجنگ ہے۔ اس دورے کے پسِ منظر میں موجود محرکات محض رسمی نہیں بلکہ انتہائی اہم معاشی اور دفاعی اسٹریٹجی پر مبنی ہیں۔ اس وقت پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اپنی معیشت کی بحالی ہے، اور اس مقصد کے لیے چین کے ساتھ تعاون کی نوعیت اب محض "دوستی" سے بڑھ کر "اقتصادی بقا" کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ذرائع اور سرکاری دستاویزات یہ بتاتے ہیں کہ اس دورے کا بنیادی مقصد سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے کو فعال کرنا ہے، جس میں صنعتی تعاون، زراعت کی جدید کاری اور خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کی تعمیر اولین ترجیح ہے۔
اس دورے کے مقاصد پر نظر ڈالی جائے تو ایک اہم نکتہ توانائی کے شعبے میں جاری منصوبوں کی ری سٹرکچرنگ ہے۔ پاکستان اس وقت بجلی کے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اور چین کے ساتھ ان قرضوں کی واپسی کے طریقہ کار پر بات چیت کرنا ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیکیورٹی کے معاملات بھی اس دورے کا ایک لازمی جزو ہیں، کیونکہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہی وہ کلید ہے جس سے مزید چینی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں ان تمام ٹیکنیکل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید مستحکم ہو۔
ایک اور اہم محرک علاقائی سیاست میں بدلتا ہوا توازن ہے، جہاں پاکستان کو اپنی جغرافیائی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے چین جیسے قابلِ اعتماد پارٹنر کی ضرورت ہے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے نئے معاہدوں پر پیش رفت متوقع ہے۔ ان مقاصد کا حصول جہاں ملکی معیشت کے لیے آکسیجن کا درجہ رکھتا ہے، وہاں یہ سفارتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو بھی واضح کرتا ہے۔ اس تحریر کا مقصد ان حقائق کو سامنے لانا ہے جو اس دورے کی اصل بنیاد ہیں اور جن کے نتائج آنے والے مہینوں میں پاکستان کی معاشی اور خارجہ پالیسی پر براہِ راست اثر انداز ہوں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی