'فری' سوشل میڈیا کی اصل قیمت: وائس آف ورلڈ اردو کی خصوصی رپورٹ
فری' سوشل میڈیا کی اصل قیمت وائس آف ورلڈ اردو کی خصوصی رپورٹ تحریر کا دورانیہ: 4 منٹ سلیکون ویلی کا یہ مشہور قول کہ "اگر آپ کسی پروڈکٹ کے لیے پیسے ادا نہیں کر رہے تو دراصل آپ خود وہ پروڈکٹ ہیں" محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس ڈیجیٹل عہد کا سب سے بڑا نوحہ ہے جسے ہم 'مفت سوشل میڈیا' کے نام پر جی رہے ہیں۔ ہم روزانہ صبح اٹھ کر جس فیس بک، انسٹاگرام یا واٹس ایپ کو سہولت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ درحقیقت دنیا کی مہنگی ترین تجارت کا وہ حصہ ہیں جہاں کرنسی روپیہ یا ڈالر نہیں بلکہ آپ کی زندگی کے لمحات، آپ کی ترجیحات اور آپ کا قیمتی ڈیٹا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسانیت نے کبھی بھی اتنی بڑی قیمت کسی سہولت کے لیے ادا نہیں کی جتنی آج کا صارف دے رہا ہے، جس کا اعتراف آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ کی تحقیقات میں بھی ملتا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز آپ کے نفسیاتی پروفائل کو اس حد تک سمجھ چکے ہیں کہ وہ آپ کے اگلے قدم کی پیشگوئی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شوشانہ زوبوف اپنی شہرہ آفاق تحریر "The Age of Surveillance Capitalism" میں اس حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ یہ کمپنیاں آپ کے ڈی...

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں