جدید مزدور اور بکھری ہوئی مزاحمت: تحریر علی رضا

1 may labour day voice of World Urdu 

 جدید مزدور اور بکھری ہوئی مزاحمت

 تحریر علی رضا 

تحریر کا دورانیہ: تقریباً 4 منٹ
یکم مئی 2026 کی یہ خاموش دوپہر ماضی کے ان پرشور مئی کے مہینوں سے کتنی مختلف ہے جب کارخانوں کے بھاری دروازے کھلتے تھے اور مزدوروں کا ایک سمندر سڑکوں پر نکل کر سرمایہ داری کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ آج سڑکیں شاید اتنی آباد نہیں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ استحصال ختم ہو گیا ہے، بلکہ کارل مارکس نے جس 'بیگانگی'  کا ذکر کیا تھا، وہ آج اپنے بھیانک ترین عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مارکس نے خبردار کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام مزدور کو نہ صرف اس کی محنت کے پھل سے دور کر دیتا ہے بلکہ اسے خود اس کی اپنی ذات اور سماج سے بھی بیگانہ کر دیتا ہے۔ آج کا نوجوان مزدور اسی بیگانگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے جو اپنے کمرے کی چار دیواری میں قید، لیپ ٹاپ کی نیلی روشنی میں گم، دنیا سے کٹ کر ایک ایسی مزدوری کر رہا ہے جس کا سرا اسے خود بھی معلوم نہیں۔
اب ہڑتالیں نہیں ہوتیں کیونکہ اب کوئی 'اجتماعی کارخانہ' نہیں رہا جہاں مزدور ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو سکیں۔ آج کا کارخانہ ایک 'الگورتھم' ہے جس نے مزدور کو اس کی تنہائی کے کمرے میں محصور کر دیا ہے۔ مارکس نے کہا تھا کہ سرمایہ داری انسان کو ایک 'جنس' میں بدل دیتی ہے، اور آج کا فری لانسر یا ڈیجیٹل ورکر اسی جنس کی جدید ترین شکل ہے جو بظاہر خود مختار ہے لیکن حقیقت میں وہ ایک ایسی غیر مرئی مشین کا پرزہ بن چکا ہے جو اسے آرام کرنے یا سوچنے کی مہلت تک نہیں دیتی۔ یہ تنہائی اسے کسی منظم مزاحمت کا حصہ بننے سے روکتی ہے، کیونکہ جب انسان دوسرے انسان سے کٹ جاتا ہے تو اس کی مزاحمت کی قوت بھی دم توڑنے لگتی ہے۔ آج کا نوجوان اسی لیے منتشر ہے، وہ سکرین پر 'سکرول' تو کر رہا ہے لیکن اسے وہ راستہ نہیں مل رہا جہاں سے وہ اس جدید قید خانے کی دیواریں گرا سکے۔
مارکس کے نظریات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ ٹیکنالوجی، جو انسان کی سہولت کے لیے ہونی چاہیے تھی، آج اسے مزید غلام بنانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ وہ مشین جسے مزدور کا بوجھ ہلکا کرنا تھا، آج اسے 'ڈیجیٹل مشقت' کے لامتناہی چکر میں ڈال چکی ہے جہاں کام کے اوقات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہ وہ دور ہے جہاں 'استحصال' اب خاموشی سے ہوتا ہے، بغیر کسی شور کے، ایک کلک کے ذریعے، اور مزدور کو یہ احساس تک نہیں ہونے دیا جاتا کہ اس کی محنت کی قدر کہاں جا رہی ہے۔ مستقبل کا اصل چیلنج اسی تنہائی کو توڑنا اور اس بیگانگی کا مقابلہ کرنا ہے، کیونکہ جب تک یہ خاموش اور بکھرا ہوا مزدور دوبارہ ایک طبقے کی شکل میں متحد نہیں ہوتا، وہ اس جدید سرمایہ داری کے چنگل سے نہیں نکل پائے گا جو اسے صرف ایک ڈیٹا پوائنٹ سمجھ کر استعمال کر رہی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی