رشتوں کی مسافت اور روح کی تھکن


 

رشتوں کی مسافت اور روح کی تھکن

تحریر کا دورانیہ: 4 منٹ
اس شہر کی روشنیاں کبھی نہیں سوتیں، لیکن ان روشنیوں کے نیچے بسنے والے انسان اندر سے بجھ چکے ہوتے ہیں۔ جب آپ رشتوں کے اس طویل سفر میں اکیلے رہ جائیں، جہاں سامنے والے کا چہرہ تو پہچانا ہوا ہو مگر روح اجنبی ہو جائے، تو سمجھ لیں کہ آپ تھک چکے ہیں۔ یہ وہ تھکن نہیں جو ایک رات کی نیند سے دور ہو جائے، یہ وہ بوجھ ہے جو ریڑھ کی ہڈی میں نہیں، بلکہ احساس کی گہرائیوں میں بیٹھ جاتا ہے۔
ایک پرانی کہاوت ہے کہ "انسان رشتوں سے نہیں، رشتوں میں ملنے والی خاموشی اور بے حسی سے تھکتا ہے"۔ نائیر فلموں کے کسی تاریک منظر کی طرح، جہاں بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے پر آنسوؤں کی طرح گرتی ہیں، انسان بھی اپنے اندر ایک ایسی ہی بارش محسوس کرتا ہے۔ وہ رشتہ جو کبھی پناہ گاہ تھا، اب ایک قید خانہ لگنے لگتا ہے جہاں ہر لفظ ایک تفتیش اور ہر خاموشی ایک سزا بن جاتی ہے۔
سگمنڈ فرائڈ کے مطابق، جب انسان کی ذہنی توانائی (Libido) مسلسل ایسے رشتوں پر خرچ ہوتی رہے جہاں سے واپسی میں صرف مایوسی ملے، تو نفسیاتی طور پر ایک "ڈیڈ لاک" پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان رشتوں سے تھک کر خود سے ملنے کی جستجو شروع کرتا ہے۔
رشتوں کی اس تھکن میں انسان ایک ایسی بند گلی میں کھڑا ہوتا ہے جہاں پیچھے مڑ کر دیکھنا تکلیف دہ ہے اور آگے بڑھنے کا راستہ دھندلا چکا ہوتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر انسان سیکھتا ہے کہ کبھی کبھی سب سے مضبوط رشتہ وہی ہوتا ہے جو آپ کا اپنی ذات کے ساتھ ہو۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی