"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
تحریر: عظمیٰ اسحاق (Voice of World Urdu)
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وقت ایک ایسی عدالت ہے جہاں ہر ظالم کا زوال اور ہر حق پرست کا عروج پہلے سے لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے اردگرد کے حالات اور واقعات کو کنٹرول کر رہے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان اپنی تمام تر سائنسی ترقی اور مادی طاقت کے باوجود، وقت کی بے رحم زنجیروں میں جکڑا ایک قیدی ہے۔
اگر ہم ماضی کے پنوں کو پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عظیم سلطنتیں، جن کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، آج صرف آثارِ قدیمہ کی زینت بن چکی ہیں۔ ان کے عروج کے پیچھے کہیں نہ کہیں وہ غرور چھپا تھا جس نے انہیں زوال کی کھائی میں دھکیل دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے ہم "The Twist of Time" یا وقت کا موڑ کہتے ہیں۔ ہر عروج کے پیچھے ایک زوال کی کہانی چھپی ہے، اور ہر زوال میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک نیا سبق پوشیدہ ہے۔
آج کی جدید دنیا میں بھی وہی قدیم کھیل ایک نئے روپ میں جاری ہے۔ بحیرہ احمر کی لہروں سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ریگزاروں تک، سیاست کے مہرے بدل رہے ہیں اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایک بیدار مغز صحافی کی نظر سے دیکھا جائے تو آج کا ہر واقعہ ماضی کی کسی نہ کسی کڑی سے جڑا نظر آتا ہے۔ یہ کڑیاں ہی وہ حقیقتیں ہیں جو عام نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔
صحافت کا اصل مقصد محض خبر پہنچانا نہیں بلکہ ان حقائق کو منظرِ عام پر لانا ہے جو طاقتوروں کی مصلحتوں تلے دب جاتے ہیں۔ سچائی کو چھپانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سورج کو بادلوں کی اوٹ میں قید کرنا۔ بادل عارضی ہوتے ہیں، مگر سورج کی حقیقت ابدی ہے۔ اسی طرح، ایک سچی تحریر دیر سے ہی سہی، مگر اپنا راستہ خود بناتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آواز کو کمزوروں کا سہارا بنائیں اور گزرتے ہوئے ہر لمحے کی قدر کریں۔ یاد رکھیں، تاریخ خود کو دہراتی نہیں ہے بلکہ ہمیں سدھرنے کا موقع دیتی ہے۔ جو قومیں اور افراد وقت کے اس بدلتے ہوئے رخ کو سمجھ لیتے ہیں، وہی مستقبل کے نقشے پر اپنا نام نقش کر پاتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں