"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

ورلڈ گورننس: ایران، امریکہ اور اسرائیل کنفلکٹ تحریر: نجم سرفراز قسط: 2

نجم سرفراز 

 ورلڈ گورننس: ایران، امریکہ اور اسرائیل کنفلکٹ 

تحریر: نجم سرفراز 

قسط: 2


اس تحریر میں امریکہ۔ایران تنازعہ کا ایک وسیع تر اسٹریٹجک تناظر میں جائزہ پیش کیا گیا ہے۔


پاکستان اور مسلم دنیا کے بہت سے حصوں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر گفتگو اکثر جذباتی رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ بہت سے لوگ فطری طور پر ہر پیش رفت کو فلسطین کے مسئلے یا علاقائی رقابتوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ تاہم اگر ہم موجودہ صورتحال کو حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ جذبات سے ہٹ کر اس کے وسیع تر جغرافیائی و سیاسی پس منظر پر بھی نظر ڈالی جائے۔


اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں 1979 کی طرف واپس جانا ہوگا جب ایران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا اور 52 امریکی سفارت کاروں کو 444 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے اور تب سے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد مشرق وسطیٰ کی سیاست کو متاثر کرتا آ رہا ہے۔


آج کی بحثوں میں ایک اہم حقیقت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ امریکہ کی ہر انتظامیہ—چاہے وہ ریپبلکن ہو یا ڈیموکریٹ—ایک بنیادی مؤقف پر متفق رہی ہے: ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔


جمی کارٹر سے لے کر رونالڈ ریگن تک، بل کلنٹن اور جارج ڈبلیو بش سے لے کر براک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن تک—اس پالیسی میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔


یہ دو جماعتی اتفاقِ رائے کسی نظریاتی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسٹریٹجک سوچ کے تحت قائم رہا ہے۔


اس تنازعے کا مرکزی نکتہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق حالیہ برسوں میں ایران نے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران ہتھیار سازی کی سمت میں فیصلہ کن قدم اٹھائے تو وہ نسبتاً کم وقت میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار مواد تیار کر سکتا ہے۔

امریکہ کے لیے اس کے اثرات بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔ ایک ایٹمی طاقت کے طور پر ایران مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جائے۔ اس صورت میں سعودی عرب، ترکی اور ممکنہ طور پر مصر جیسے ممالک بھی اپنے دفاعی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے پورا خطہ ایک نئے اسٹریٹجک عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

امریکہ کے لیے سرائیل کی سلامتی یقیناً اس معاملے کا ایک اہم پہلو ہے۔ ایران حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی حمایت کرتا ہے اور مختلف محاذوں پر اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں رہتا ہے۔ چونکہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک مضبوط اسٹریٹجک اتحاد موجود ہے، اس لیے امریکی پالیسی ساز ایران کی عسکری پیش رفت کو اسرائیلی علاقائی استحکام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

ایران جغرافیائی طور پر ایک ایسے اہم مقام پر واقع ہے جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے بڑے اقتصادی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں بھی ایران کو ایک اہم حیثیت حاصل ہے، جس کا مقصد ایشیا کو یورپ اور افریقہ کے ساتھ زمینی و سمندری راستوں کے ذریعے جوڑنا ہے۔

توانائی کی سیاست اس معاملے کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جو دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے۔ روزانہ دنیا کے سمندری راستوں سے منتقل ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر اس راستے میں خلل پڑ جائے تو عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

چین، جو ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، اس بات میں بھی دلچسپی رکھتا ہے کہ یہ سمندری راستہ محفوظ اور کھلا رہے۔


یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں چین اور روس ایران کو ایک ایٹمی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ایران نے چین کے ساتھ پچیس سالہ اسٹریٹجک تعاون کا معاہدہ اور روس کے ساتھ بیس سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کیے ہیں، جن کا مقصد توانائی، دفاع، انفراسٹرکچر اور تجارت کے شعبوں میں طویل المدتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ان معاہدوں کی وجہ سے اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ چین اور روس ایران کے مضبوط اسٹریٹجک اتحادی ہیں۔ تاہم عملی سیاست اس سے کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران سے متعلق تنازعات میں دیکھا گیا ہے کہ ان دونوں طاقتوں نے ایران کے حق میں براہِ راست عسکری مداخلت نہیں کی بلکہ زیادہ تر سفارتی بیانات اور محدود سیاسی حمایت تک ہی خود کو محدود رکھا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور روس ایران کے ساتھ تعاون ضرور چاہتے ہیں، لیکن وہ کسی ایسے براہِ راست تصادم سے بھی بچنا چاہتے ہیں جو انہیں امریکہ اور مغربی طاقتوں کے ساتھ کھلے ٹکراؤ میں لے آئے۔


پاکستان کے لیے بھی یہ معاملہ مکمل طور پر غیر متعلق نہیں ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور معاشی روابط موجود ہیں۔ تاہم 2024 میں سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر میزائل حملوں نے یہ واضح کر دیا کہ علاقائی سلامتی کے مسائل کتنے پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔


اگر ایران مستقبل میں ایٹمی طاقت بن جاتا ہے تو اس کے پاکستان کی اسٹریٹجک سوچ پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک جانب ایک ہمسایہ ایٹمی طاقت کے ساتھ تعلقات کو زیادہ احتیاط اور توازن کے ساتھ چلانا ہوگا، جبکہ دوسری جانب جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان اسٹریٹجک رابطے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

نیوکلئیر سٹیٹ کے لیے ایک "زمہ دار" سٹیٹ ہونے کی شرط کہ جہاں ادارے مظبوط ہوں اور اسٹریٹجک فیصلہ سازی شخصی کی بجائے اداری جاتی ہو بھی ایک اہم بین الاقوامی اصول ہے جو ایران جیسی ریاستوں کے آڑے آتا ہے


ان تمام عوامل کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو صرف ایک محدود علاقائی تنازعہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یہ دراصل کئی دہائیوں پر محیط جغرافیائی و سیاسی رقابت، ایٹمی خدشات، علاقائی طاقت کے توازن اور عالمی توانائی کی سیاست کا مجموعہ ہے۔


اگر ہم مشرق وسطیٰ کے مستقبل اور عالمی طاقتوں کے کردار کے بارے میں سنجیدہ اور متوازن بحث کرنا چاہتے ہیں تو ان پیچیدہ حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی