"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
تاریخ: 8 مارچ 2026
ماضی کی غلطی سے سبق: چین بمقابلہ بھارت
امریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ 20 سال قبل امریکہ نے چین کو اپنی منڈیوں تک کھلی رسائی دے کر جو "تاریخی غلطی" کی تھی، اسے اب بھارت کے معاملے میں نہیں دہرایا جائے گا۔ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ چین نے امریکی رعایتوں کا فائدہ اٹھا کر کئی اہم شعبوں میں خود امریکہ کو ہی پیچھے چھوڑ دیا، جس سے امریکی معیشت اور مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچا۔
"ہم بھارت کے ساتھ تجارت کے لامتناہی مواقع تو دیکھ رہے ہیں، لیکن ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ یہ معاہدہ امریکی عوام کے لیے منصفانہ ہو اور مستقبل میں توازن برقرار رہے۔" — کرسٹوفر لینڈو
پاک بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ: کیا کچھ بدلنے والا ہے؟
گزشتہ ماہ سے گردش کرنے والی خبروں کے مطابق، دونوں ممالک ایک بڑے تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اگرچہ اس کی مکمل تفصیلات ابھی پردہِ راز میں ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق اس کے بنیادی نکات درج ذیل ہو سکتے ہیں:
ٹیرف میں کمی: امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں (Tariffs) کی شرح میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
منڈیوں تک رسائی: دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے اقتصادی راستے ہموار کریں گے، مگر اس بار امریکہ "پہلے اپنے مفاد" کی پالیسی پر سختی سے کاربند نظر آتا ہے۔
جوابدہی کا عنصر: کرسٹوفر لینڈو نے واضح کیا کہ جس طرح مودی حکومت اپنے شہریوں کو جوابدہ ہے، اسی طرح امریکی انتظامیہ بھی اپنے عوام کے مفادات کے تحفظ کی پابند ہے۔
The Twist of Time: وائس آف ورلڈ کا تجزیہ
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ ہمیشہ سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اپنے سٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ 2000 کی دہائی میں چین کو روس کے خلاف اور سستی لیبر کے لیے اہمیت دی گئی، لیکن آج وہی چین امریکہ کا سب سے بڑا حریف بن چکا ہے۔
اب جبکہ بھارت کو چین کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، امریکہ کی یہ "احتیاط" ظاہر کرتی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں ایک اور "اقتصادی سپر پاور" پیدا کرنے کے خطرات سے آگاہ ہے جو آگے چل کر خود اس کے لیے چیلنج بن سکے۔
ایڈیٹر نوٹ:
یہ رپورٹ خالصتاً حقائق اور حالیہ سفارتی بیانات پر مبنی ہے۔ وائس آف ورلڈ اپنے قارئین تک مستند اور غیر جانبدارانہ معلومات پہنچانے کے لیے پرعزم ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں