"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
تحریر: علی رضا (Voice of World Urdu)
کہتے ہیں کہ یہ دنیا عقل مندوں نے نہیں بلکہ "دیوانوں" نے بنائی ہے۔ وہ دیوانے جنہیں اپنی فیلڈ سے عشق ہوا، جو ہواؤں کے رخ بدلنے نکلے، جو سمندروں کے سینے چاک کر کے گہرائیوں میں اترے اور جنہوں نے انسانی جسم کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگا دی۔ آج کا جدید سماج انہی سرپھروں کا مرہونِ منت ہے۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ "آتشِ نمرود" میں کودنے کے لیے عقل نہیں، وہ جنون چاہیے جو انجام سے بے نیاز کر دے۔
ایک عالمگیر جھوٹ اور ایک تنہا جنون
1980 کی دہائی تک میڈیکل سائنس کی دنیا ایک بہت بڑے مغالطے کا شکار تھی۔ پوری دنیا کے ماہرینِ طب کا یہ پختہ ایمان تھا کہ معدے کا السر (Stomach Ulcer) صرف ذہنی تناؤ، ٹینشن اور تیز مصالحوں والی غذاؤں سے ہوتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب اس بیماری کا کوئی مستقل علاج نہ تھا، بس احتیاط ہی واحد راستہ سمجھا جاتا تھا۔
لیکن اسی دوران آسٹریلیا کے ایک نوجوان ڈاکٹر، بیری مارشل نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے طبی دنیا میں بھونچال پیدا کر دیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ السر کا تعلق ٹینشن سے نہیں بلکہ ایک ننھے سے بیکٹیریا (H. pylori) سے ہے۔
جب دنیا نے اسے "پاگل" قرار دیا
سائنسدانوں نے بیری مارشل کا تمسخر اڑایا۔ اسے "دیوانہ" اور "سستی شہرت کا بھوکا" کہا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ انسانی معدے کا تیزاب (Acid) اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ اس میں کوئی جاندار زندہ رہ ہی نہیں سکتا۔ بیری مارشل کے پاس اپنی تحقیق کو ثابت کرنے کے لیے کوئی لیبارٹری چوہا یا جانور موجود نہیں تھا جس پر وہ تجربہ کر سکتا۔
آتشِ نمرود میں چھلانگ: وہ تاریخی لمحہ
جب حقائق کے دروازے بند کر دیے گئے، تو اس دیوانے نے وہ کیا جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا۔ بیری مارشل نے لیبارٹری میں تیار کردہ اس خطرناک بیکٹیریا کا ایک پورا گلاس بھرا اور دنیا کے سامنے اسے غٹا غٹ پی لیا۔
یہ خودکشی کے مترادف ایک عمل تھا، لیکن ایک محقق کے لیے یہ سچائی کی تلاش کا آخری راستہ تھا۔ چند ہی دنوں میں بیری مارشل کا معدہ زخموں سے بھر گیا، اسے وہ تمام علامات لاحق ہو گئیں جن کا وہ دعویٰ کر رہا تھا۔ اس نے اپنی ہی بائیوپسی کی اور دنیا کو دکھایا کہ دیکھو! یہ وہی بیکٹیریا ہے جو میرے معدے کو کھا رہا ہے۔ پھر اس نے اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے اپنا علاج کر کے یہ ثابت کر دیا کہ السر اب لاعلاج نہیں رہا۔
The Twist of Time: ذلت سے نوبل پرائز تک
وقت کا پہیہ گھوما اور جس شخص کو دنیا نے رد کر دیا تھا، اسے 2005 میں طب کے اعلیٰ ترین اعزاز "نوبل پرائز" سے نوازا گیا۔ بیری مارشل کی اس ایک "دیوانگی" نے کروڑوں انسانوں کو تاحیات تکلیف سے بچا لیا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں