"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
دسمبر 1928 کی وہ سرد شام جب کلکتہ کے سیاسی پنڈال میں کھدر پوش اشرافیہ جمع تھی، ہندوستان کی تقدیر ایک عجیب موڑ پر کھڑی تھی۔ اسٹیج پر موتی لال نہرو کی صدارت میں اس "نہرو رپورٹ" پر بحث ہو رہی تھی جس کا خلاصہ صرف ایک مطالبہ تھا: "ڈومینین سٹیٹس"۔ یعنی برطانوی تاج کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سائے تلے داخلی خود مختاری کی گنجائش نکالی جائے۔ یہ وہ مصلحت پسند مائینڈ سیٹ تھا جو سیاست کو صرف قانونی موشگافیوں، مراعات کی بندر بانٹ اور برطانوی ایوانوں سے قریبی تعلقات کے ترازو میں تول رہا تھا۔ اس وقت کے بڑے نام یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید انگریز کے وفادار رہ کر ہی کچھ حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اسی ہجوم کے بیچ لائلپور کے گاؤں مانگٹانوالہ سے اٹھنے والا ایک 21 سالہ نوجوان کچھ اور ہی دیکھ رہا تھا۔ بھگت سنگھ، جس کے پاس بندوق سے زیادہ طاقتور اس کا مارکسی نظریہ تھا، اس ادھوری آزادی کے سودے کو مسترد کر چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر آزادی "مکمل" نہ ہوئی تو یہ صرف آقاؤں کی تبدیلی ہوگی، نظام کی نہیں۔ اسے معلوم تھا کہ اگر گورے چلے گئے اور ان کی جگہ یہی مصلحت پسند طبقہ آ گیا تو لائلپور کے کسان اور مزدور کی تقدیر میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ بھگت سنگھ کا مارکسزم اسے یہ بتا رہا تھا کہ اصل جنگ کسی خاص رنگ یا نسل کے خلاف نہیں بلکہ اس استحصالی ڈھانچے کے خلاف ہے جو انسان کا خون چوستا ہے۔ اس نے اپنی جیل ڈائری میں لکھا تھا کہ انقلاب سے مراد صرف غیر ملکی حکومت کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک ایسے سماج کی تشکیل ہے جہاں استحصال ناممکن ہو۔
وقت کا پہیہ گھوما اور آج ہم 2026 میں کھڑے ہیں۔ 1928 کا وہ کلکتہ سیشن آج کے ان عالمی ایوانوں میں بدل چکا ہے جہاں ابراہیمی معاہدے جیسے بڑے جیو پولیٹیکل فیصلے چند مخصوص ہاتھوں میں طے پاتے ہیں۔ تب بھی فیصلے کرنے والے کمروں میں بند تھے اور عوام باہر، آج بھی منظر وہی ہے۔ آج کا سامراج اب ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح بحری جہازوں میں نہیں آتا، بلکہ وہ فائبر آپٹک کیبلز، سیٹلائٹ لنکس اور پیچیدہ الگورتھم کی شکل میں براہِ راست آپ کی زندگیوں میں داخل ہو چکا ہے۔ جس "بندر بانٹ" کا خوف بھگت سنگھ کو 95 سال پہلے تھا، وہ آج Digital Feudalism (ڈیجیٹل فیوڈلزم) کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ آج کی بندر بانٹ میٹنگز میں اب صرف زمینوں کا سودا نہیں ہوتا، بلکہ آپ کی ڈیجیٹل شناخت، آپ کے ڈیٹا اور آپ کی آواز کی قیمت لگائی جاتی ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں اور عالمی مالیاتی ادارے آج کے دور کے وہ "جاگیردار" ہیں جن کے کلاؤڈ سرورز پر آپ کی زندگی کی زمینیں لیز پر ہیں۔ جیسے ماضی میں کسان کو اپنی زمین پر بولنے کا حق نہیں تھا، آج ڈیجیٹل سنسر شپ کے ذریعے اس آواز کو خاموش کر دیا جاتا ہے جو ان عالمی معاہدوں یا مخصوص ایجنڈوں کے خلاف اٹھتی ہے۔ یہ سنسر شپ دراصل اسی ادھوری آزادی کا کرایہ ہے جو ہم ہر روز اپنے سچ کی قربانی دے کر ادا کرتے ہیں۔
تصور کریں کہ اگر وہ لائلپور کا مارکسسٹ آج زندہ ہوتا تو کیا وہ ان مصلحت پسندوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر "ڈیجیٹل حقوق" کی بھیک مانگتا؟ ہرگز نہیں۔ وہ آج کسی روایتی میڈیا ہاؤس کا حصہ بننے کے بجائے ایک "انکرپٹڈ بلاگ" چلا رہا ہوتا۔ وہ بلاک چین اور جدید ٹیکنالوجی کو ہتھیار بنا کر اس ڈیجیٹل فیوڈلزم کی دیواروں میں شگاف ڈال رہا ہوتا۔ وہ ہمیں بتاتا کہ جب تک آپ کے ڈیٹا، آپ کے وسائل اور آپ کے قومی فیصلوں کی کنجی کسی بیرونی سرور یا عالمی بندھن کے پاس ہے، آپ کی آزادی محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ بھگت سنگھ کا "مکمل آزادی" کا نعرہ آج کے دور میں ڈیجیٹل اور معاشی خود مختاری کا دوسرا نام ہے۔ شادمان چورنگی پر اس کی یادگار بنانے سے اجتناب یا اسے تاریخ کے اوراق سے مٹانے کی کوشش دراصل اس خوف کا اعتراف ہے جو آج کا مصلحت پسند نظام اس کے نظریے سے محسوس کرتا ہے۔ وہ لائلپور کا بیٹا آج بھی ہماری بے چینی میں زندہ ہے، ہمیں یہ یاد دلاتے ہوئے کہ آزادی کوئی رعایت نہیں بلکہ وہ حق ہے جو چھینا جاتا ہے، اور جب تک یہ نظام استحصالی ہے، انقلاب کی تلوار کو خیالات کی سان پر تیز کرنا ہی واحد راستہ ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں