"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
ایک جیسا ہوتا ہے(Rhythm) تاریخ کبھی اپنے آپ کو دہراتی نہیں مگر اس کا آہنگ
چین کے برفیلے پہاڑوں سے لے کر ایران کے تپتے ہوئے صحراؤں تک، انقلابی داستانوں میں ایک عجیب مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ داستان ہے ان "مصلحت آمیز اتحادوں" کی جو ایک بڑے مشترکہ دشمن کو گرانے کے لیے بنائے گئے، مگر جیسے ہی دشمن گرا، اتحادیوں نے ایک دوسرے کے خون سے ہاتھ رنگ لیے۔
چین میں ماؤزے تنگ کی کمیونسٹ پارٹی اور چیانگ کائی شیک کی نیشنلسٹ پارٹی ایک دوسرے کے ازلی دشمن تھے۔ لیکن 1937 میں جب جاپانی سامراج نے چین پر دھاوا بولا، تو ان دونوں نے "متحدہ محاذ" بنا لیا۔ یہ اتحاد کسی نظریاتی محبت کا نتیجہ نہیں، بلکہ بقا کی جنگ تھی۔
ماؤزے تنگ نے بڑی دانائی سے اس وقت کا استعمال اپنی طاقت بڑھانے کے لیے کیا۔ جیسے ہی 1945 میں جاپان کو شکست ہوئی، ماؤ نے ریاست کے خلاف اپنی جدوجہد دوبارہ تیز کر دی۔ نیشنلسٹ پارٹی، جو جنگ کی وجہ سے کھوکھلی ہو چکی تھی، ماؤ کی منظم انقلابی لہر کا مقابلہ نہ کر سکی۔ 1949 میں ماؤ نے اپنے سابقہ "اتحادیوں" کو چین سے بے دخل کر کے تائیوان کی سرحدوں میں دھکیل دیا اور بیجنگ کے تئین امن چوک پر سرخ جھنڈا لہرا دیا۔
تقریباً تین دہائیوں بعد، یہی تاریخ ایران میں دہرائی گئی۔ یہاں دشمن "شاہِ ایران" تھا۔ اس جدوجہد میں ایک طرف "تودہ پارٹی" کے مارکسی انقلابی تھے اور دوسری طرف آیت اللہ خمینی کی مذہبی قیادت۔ تودہ پارٹی نے بالکل وہی غلطی کی جو نیشنلسٹ پارٹی کے بعض دھڑوں نے چین میں کی تھی؛ انہوں نے سمجھا کہ وہ خمینی صاحب کی عوامی مقبولیت کو صرف "شاہ" کو
ہٹانے کے لیے استعمال کریں گے۔
تودہ پارٹی نے فرانس میں مقیم خمینی صاحب کو "انقلاب کا امام" تسلیم کیا، انہیں تہران لانے کے لیے راستہ ہموار کیا اور اپنی تمام تر تنظیمی طاقت ان کے قدموں میں ڈھیر کر دی۔ ان کا خیال تھا کہ انقلاب کے بعد اقتدار کی بساط پر "سرخ رنگ" (سوشلزم) حاوی رہے گا، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ نظریاتی جنگ میں "خلا" کی گنجائش نہیں ہوتی۔
ماؤ اور خمینی دونوں کے طریقے جدا تھے، مگر مقصد ایک: "مطلق العنان اقتدار"۔
* چین میں: ماؤ نے نیشنلسٹ پارٹی کو میدانِ جنگ میں شکست دی کیونکہ ان کے پاس ایک متبادل ریاستی ماڈل موجود تھا۔
![]() |
* ایران میں: تودہ پارٹی کو میدانِ جنگ کی ضرورت ہی نہیں پڑی، انہیں ریاست کے اندرونی ڈھانچے سے ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔ جس تودہ پارٹی نے خمینی کو اقتدار تک پہنچایا، 1983 تک اس کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ ان کے رہنماؤں سے ٹی وی پر "غداری" کے اعترافات کروائے گئے اور انہیں وہی راستہ دکھایا گیا جو کسی زمانے میں ماؤ نے اپنے مخالفین کو دکھایا تھا۔
چین ہو یا ایران، انقلاب کا اصول ایک ہی ہے: "ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں"۔ تودہ پارٹی نے سمجھا تھا کہ وہ مذہبی لہر پر سوار ہو کر منزل تک پہنچ جائیں گے، جبکہ ماؤ نے ثابت کیا تھا کہ منزل صرف اسی کی ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں لگام ہو۔ ایران کے انقلابیوں نے ماؤ کے تجربے سے یہ تو سیکھ لیا تھا کہ "طاقت بندوق کی نالی سے نکلتی ہے"، لیکن تودہ پارٹی یہ سیکھنا بھول گئی کہ جس بندوق کو وہ کندھا دے رہے ہیں، اس کا رخ آخر میں کس کی طرف ہوگا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں