"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| العربیہ |
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک ایسے موڑ پر آن پہنچی ہے جہاں عالمی تجارت کا سب سے اہم راستہ "آبنائے ہرمز" میدانِ جنگ بنتا نظر آ رہا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان نے عالمی منڈیوں اور عالمی دارالحکومتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ایران کا حیران کن اعلان: سفیر نکالو، راستہ پاؤ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اب آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت صرف ان ممالک کو دی جائے گی جو اپنے ملک سے امریکہ اور اسرائیل کے سفیروں کو ملک بدر کریں گے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اسنا' کے مطابق، یہ پیشکش عرب اور یورپی ممالک دونوں کے لیے ہے، جس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھانا ہے۔
امریکی ردعمل: ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ
اس بیان کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو اسے "انتہائی شدید کارروائی" کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس بار امریکہ کا جواب ماضی کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ سخت ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت: کیوں یہ راستہ اتنا اہم ہے؟
آبنائے ہرمز کو دنیا کی "شہ رگ" کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
تیل کی ترسیل: دنیا کے کل تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
عالمی قیمتیں: یہاں معمولی سی رکاوٹ بھی عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا سکتی ہے۔
جنگی اثرات: حالیہ تناؤ کی وجہ سے سمندری آمدورفت پہلے ہی کم ہو چکی ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
تجزیہ: کیا ایران یہ قدم اٹھا سکے گا؟
یہ محض ایک بیان ہے یا حقیقت؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران اس پر عمل کرتا ہے تو یہ براہِ راست عالمی طاقتوں کے ساتھ تصادم کی دعوت ہوگی۔ ایران اسٹریٹجک کارڈ کھیل کر عرب ممالک کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں، جبکہ امریکہ اس راستے کو کھلا رکھنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں