"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

پائیدار امن کا راستہ جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ سفارت کاری، علاقائی تعاون اور واضح سیاسی فیصلوں سے نکلتا

Najam Sarfarz 

 پاکستانی سوشل میڈیا ایک بار پھر جذباتی بیانیوں کی زد میں ہے، جہاں حقائق کے بجائے ہیجان اور قیاس آرائیاں زیادہ نظر آ رہی ہیں۔ لیکن بین الاقوامی سیاست جذبات سے نہیں بلکہ ریاستی مفادات اور طاقت کے توازن سے چلتی ہے۔


حالیہ صورتحال میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ چین اور روس نے ایران کے حق میں ویٹو استعمال نہیں کیا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عرب ممالک پر ایرانی حملوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خلاف قرارداد کی منظوری کی راہ ہموار ہوئی۔ پاکستان نے بھی اسی تناظر میں اپنا ووٹ ریاستی مفاد کے مطابق عرب ممالک کے حق میں کاسٹ کیا، جو ایک حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ فیصلہ تھا۔


پاکستان میں عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کو برداشت کرنا کسی بھی ریاست یا عالمی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ چاہے وہ لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد ہوں، پاکستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، چین میں ایسٹ ترکستان موومنٹ، یا دنیا کے دیگر خطوں میں القاعدہ، بوکو حرام اور الشباب—دنیا اب ایسی تنظیموں کے لیے جگہ تنگ کر رہی ہے۔


اسی اصول کا اطلاق ایران کی ان پراکسی تنظیموں پر بھی ہوتا ہے جن میں حماس، حزب اللہ، یمن کے حوثی اور عراق و شام میں موجود شیعہ ملیشیاز شامل ہیں۔ خطے کی بدلتی ہوئی اسٹریٹجک حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ان پراکسی جنگوں کی گنجائش تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔


ایران کی مذہبی قیادت نے گزشتہ دہائیوں میں اپنے ملک کے وسیع معدنی وسائل—خصوصاً تیل اور گیس—سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالر عوام کی فلاح و بہبود، صاف پانی، معاشی ترقی اور شہری و دیہی انفراسٹرکچر پر خرچ کرنے کے بجائے زیادہ تر جوہری پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی اور خطے میں اپنی پراکسی تنظیموں پر خرچ کیے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج خود ایران کے قریبی دوست ممالک بھی اسے مکمل جوہری طاقت بننے کے خطرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔


درحقیقت بڑی طاقتوں کی حکمت عملی دوہری ہے: ایک طرف وہ ایران کے ذریعے امریکہ پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہیں، لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی چاہتی ہیں کہ خطے میں ایک بے قابو جوہری خطرہ پیدا نہ ہو۔ اسی لیے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی مکمل حمایت کے بجائے محتاط توازن پر مبنی ہے۔


خطے کے عرب ممالک، پاکستان، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی اسی حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر سے اپنے مفادات کو دیکھ رہی ہیں۔ موجودہ حالات دراصل ایک نیا سفارتی موقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔


اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور عرب ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر فلسطین کے مسئلے کے حتمی حل کے لیے سنجیدہ اور بھرپور مذاکرات کا آغاز کریں۔ دنیا کو واضح پیغام دیا جانا چاہیے کہ اگر یہ مسئلہ مذاکرات کی میز پر حل نہ ہوا تو خطے میں مسلسل تنازعات اور غیر ریاستی عناصر کے لیے جگہ بنتی رہے گی، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بنے رہیں گے۔


پائیدار امن کا راستہ جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ سفارت کاری، علاقائی تعاون اور واضح سیاسی فیصلوں سے نکلتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی