"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
(خصوصی رپورٹ: وائس آف ورلڈ اردو)
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی نے عالمی توانائی کی مارکیٹ کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے حالیہ بیانات میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر خطے میں جاری تنازعہ مزید شدت اختیار کرتا ہے تو خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت پہلے ہی سپلائی چین کے مسائل اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اس نوعیت کا اضافہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی پیچیدہ عوامل پر مبنی ہوتا ہے:
بین الاقوامی معاشی اداروں (جیسے IMF) کے تجزیوں کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عالمی جی ڈی پی (GDP) کی شرحِ نمو کو سست کر سکتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے ادائیگیوں کے توازن کا بحران (Balance of Payments crisis) پیدا ہو سکتا ہے۔
دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات دراصل ایک دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں جسے "بازدار صلاحیت" (Deterrence) کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد عالمی طاقتوں کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی راستوں کو ترجیح دیں، کیونکہ ایک مکمل جنگ کے معاشی نتائج کسی بھی فریق کے قابو میں نہیں رہیں گے۔
تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں توازن بگڑا ہے، عالمی معیشت نے اس کی قیمت چکائی ہے۔ موجودہ حالات میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آیا عالمی طاقتیں کوئی ایسا درمیانی راستہ نکال پائیں گی جو توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھ سکے اور خطے کو ایک بڑے معاشی بحران سے بچا سکے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں