"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
(خصوصی رپورٹ: وائس آف ورلڈ اردو)
دنیا اس وقت ایک ایسی خاموش جنگ کی لپیٹ میں ہے جس کا میدان زمین نہیں بلکہ خلا ہے۔ یہ محض ایک سائنسی مقابلہ نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز کے وسائل پر قبضے کی دوڑ ہے۔ اس دوڑ کے دو سب سے اہم ستون "آرٹیمس معاہدہ" اور "ہیلیم-3" کا خزانہ ہیں۔
ناسا (NASA) کے زیرِ قیادت تیار ہونے والا 'آرٹیمس معاہدہ' دراصل خلا میں "نیو ورلڈ آرڈر" کی بنیاد ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ کہتا ہے کہ خلا سب کے لیے ہے، لیکن اس کی کچھ شقیں بہت اہم ہیں:
چاند پر سب سے بڑی دوڑ کسی پتھر کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص گیس "ہیلیم-3" کے لیے ہے۔
چاند کے جنوبی قطب (South Pole) پر سب کی نظریں اس لیے ہیں کیونکہ وہاں برف کی صورت میں پانی موجود ہے۔ اس پانی کو توڑ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن الگ کی جا سکتی ہے، جو راکٹ کے لیے ایندھن کا کام دیتے ہیں۔ یعنی چاند صرف ایک سیارہ نہیں بلکہ مریخ اور مشتری کی طرف جانے والے جہازوں کے لیے ایک "گیس اسٹیشن" بننے والا ہے۔
جس طرح ماضی میں تیل (Oil) کے لیے جنگیں لڑی گئیں، مستقبل کی جنگیں ان خلائی وسائل کے لیے ہوں گی۔ جو ملک آج چاند پر اپنی جگہ بنا لے گا، کل وہی زمین کی معیشت کا رخ طے کرے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں