"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

Voice of World Urdu 

 

خلا کی نئی بندر بانٹ: کیا چاند مستقبل کا 'پاور ہاؤس' بننے والا ہے؟

(خصوصی رپورٹ: وائس آف ورلڈ اردو)

​دنیا اس وقت ایک ایسی خاموش جنگ کی لپیٹ میں ہے جس کا میدان زمین نہیں بلکہ خلا ہے۔ یہ محض ایک سائنسی مقابلہ نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز کے وسائل پر قبضے کی دوڑ ہے۔ اس دوڑ کے دو سب سے اہم ستون "آرٹیمس معاہدہ" اور "ہیلیم-3" کا خزانہ ہیں۔

آرٹیمس معاہدہ: خلا میں زمینوں کی تقسیم؟

​ناسا (NASA) کے زیرِ قیادت تیار ہونے والا 'آرٹیمس معاہدہ' دراصل خلا میں "نیو ورلڈ آرڈر" کی بنیاد ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ کہتا ہے کہ خلا سب کے لیے ہے، لیکن اس کی کچھ شقیں بہت اہم ہیں:

  • Safety Zones (حفاظتی حدود): یہ شق کسی بھی ملک کو چاند کے کسی حصے پر "اپنا علاقہ" قرار دینے کا بالواسطہ اختیار دیتی ہے جہاں وہ تحقیق یا کان کنی کر رہا ہو۔
  • خلائی وسائل کی ملکیت: یہ معاہدہ واضح کرتا ہے کہ چاند سے نکالی گئی کوئی بھی چیز (پانی، دھاتیں یا گیس) نکالنے والے ملک کی ذاتی ملکیت ہوگی۔

ہیلیم-3: وہ 'سونا' جس کی تلاش میں سب سرگرداں ہیں

​چاند پر سب سے بڑی دوڑ کسی پتھر کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص گیس "ہیلیم-3" کے لیے ہے۔

  • یہ کیا ہے؟ یہ ہیلیم کا ایک ایسا ہم جا (Isotope) ہے جو ایٹمی فیوژن (Nuclear Fusion) کے لیے بہترین ایندھن ہے۔
  • خوبی: اس سے بننے والی ایٹمی توانائی میں تابکاری (Radiation) نہیں ہوتی، یعنی یہ مکمل طور پر "کلین انرجی" ہے۔
  • مقدار: ماہرین کے مطابق چاند پر 11 لاکھ ٹن ہیلیم-3 موجود ہے۔ اس کی صرف چند ٹن مقدار پورے پاکستان کی سالانہ بجلی کی ضرورت پوری کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، چین اور روس چاند کے ان حصوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں جہاں اس کی مقدار زیادہ ہے۔

چاند کا جنوبی قطب: پانی اور ایندھن کا ذخیرہ

​چاند کے جنوبی قطب (South Pole) پر سب کی نظریں اس لیے ہیں کیونکہ وہاں برف کی صورت میں پانی موجود ہے۔ اس پانی کو توڑ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن الگ کی جا سکتی ہے، جو راکٹ کے لیے ایندھن کا کام دیتے ہیں۔ یعنی چاند صرف ایک سیارہ نہیں بلکہ مریخ اور مشتری کی طرف جانے والے جہازوں کے لیے ایک "گیس اسٹیشن" بننے والا ہے۔

وائس آف ورلڈ تجزیہ (The Twist of Time):

​جس طرح ماضی میں تیل (Oil) کے لیے جنگیں لڑی گئیں، مستقبل کی جنگیں ان خلائی وسائل کے لیے ہوں گی۔ جو ملک آج چاند پر اپنی جگہ بنا لے گا، کل وہی زمین کی معیشت کا رخ طے کرے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی