"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| WhatsApp Scam Prevention Urdu |
(تحقیق و تجزیہ: وائس آف ورلڈ)
آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں واٹس ایپ ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، وہیں یہ سائبر کرمنلز اور سکیمرز کا سب سے بڑا ہتھیار بھی بن گیا ہے۔ آئے روز خبریں آتی ہیں کہ کسی کا واٹس ایپ ہیک ہو گیا اور اس کے قریبی رشتہ داروں سے پیسے بٹور لیے گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سکیمرز آپ کے محفوظ اکاؤنٹ تک پہنچتے کیسے ہیں؟
1. او ٹی پی (OTP) کا دھوکہ:
سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ سکیمر آپ کو کال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ "غلطی سے ایک کوڈ آپ کے نمبر پر آ گیا ہے، مہربانی کر کے وہ ہمیں بتا دیں"۔ جیسے ہی آپ وہ 6 ہندسوں کا کوڈ بتاتے ہیں، آپ کا واٹس ایپ ان کے قابو میں چلا جاتا ہے۔
2. مشکوک لنکس (Phishing Links):
آپ کو واٹس ایپ پر پیغام آتا ہے کہ "حکومت کی طرف سے مفت راشن" یا "بینظیر انکم سپورٹ کے پیسے" نکلوانے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔ کلک کرتے ہی ایک ایسی ویب سائٹ کھلتی ہے جو آپ کے فون کا ڈیٹا چوری کر لیتی ہے۔
3. واٹس ایپ ویب (WhatsApp Web) کا غلط استعمال:
کبھی کبھی سکیمرز آپ کا فون مانگ کر صرف چند سیکنڈ کے لیے آپ کا QR کوڈ اسکین کر لیتے ہیں، جس کے بعد آپ کی تمام چیٹس ان کے کمپیوٹر پر نظر آنے لگتی ہیں۔
جب ایک بار اکاؤنٹ ہیک ہو جائے، تو سکیمرز آپ کے نام پر آپ کے دوستوں اور گھر والوں کو میسج کرتے ہیں کہ "میں ایمرجنسی میں ہسپتال ہوں، فوراً 20 ہزار روپے اس ایزی پیسہ نمبر پر بھیج دیں"۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا واٹس ایپ کبھی ہیک نہ ہو، تو ان 3 سنہری اصولوں پر عمل کریں:
ڈیجیٹل دنیا میں آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ سکیمرز ہمیشہ انسانی ہمدردی یا لالچ کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کسی بھی مشکوک میسج کی صورت میں فوراً اپنے اس دوست کو براہ راست کال کر کے تصدیق کریں جس کے نمبر سے میسج آیا ہے۔
ہمارا مقصد آپ تک سچ پہنچانا اور آپ کو باخبر رکھنا ہے۔
Voice of World Urdu: The Twist of Time
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں