"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
ٹیگ لائن: The Twist of Time
ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہر چیز ڈیجیٹل ہو رہی ہے، وہیں بھیک مانگنے کے روایتی طریقے بھی بدل چکے ہیں۔ اب بھکاری گلی محلوں کے بجائے آپ کے موبائل فون کی اسکرین پر، فیس بک گروپس اور واٹس ایپ چیٹس میں نظر آتے ہیں۔ بظاہر یہ معصوم اور مجبور لگنے والے چہرے درحقیقت ایک ایسے عالمی سنڈیکیٹ کا حصہ ہو سکتے ہیں جو آپ کے جذبات اور عقیدت سے کھیل رہا ہے۔
ہماری تحقیق کے مطابق، ڈیجیٹل بھکاریوں کا یہ گروہ چند مخصوص مراحل میں اپنا جال بچھاتا ہے:
تاریخ بتاتی ہے کہ بھکاریوں نے ہمیشہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو ڈھالا ہے۔ ماضی میں یہ گروہ صرف شہروں کے مخصوص ناکوں پر قابض ہوتے تھے، لیکن آج انٹرنیٹ نے انہیں سرحدوں سے آزاد کر دیا ہے۔ ایک کلک پر لندن سے لے کر لاہور تک کے لوگوں سے "صدقہ" وصول کیا جا رہا ہے، جس کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں۔
گہری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس طرح جمع ہونے والی رقم کا 80 فیصد حصہ ان مجبور لوگوں تک کبھی نہیں پہنچتا جن کی تصویریں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ پیسہ:
ایک ذمہ دار شہری اور مسلمان ہونے کے ناطے، ہمیں درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
نتیجہ:
صدقہ دینا ایک عظیم نیکی ہے، لیکن غلط جگہ پر دیا گیا صدقہ کسی جرم کی آبیاری بھی کر سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات کے بجائے شعور سے کام لیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں