"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

ڈیجیٹل بھکاری: سوشل میڈیا کی آڑ میں چھپا 'صدقہ مافیا' تحقیقاتی رپورٹ: اکرام اللہ (وائس آف ورلڈ)


 

ڈیجیٹل بھکاری: سوشل میڈیا کی آڑ میں چھپا 'صدقہ مافیا'

تحقیقاتی رپورٹ: اکرام اللہ (وائس آف ورلڈ)

ٹیگ لائن: The Twist of Time 

​ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہر چیز ڈیجیٹل ہو رہی ہے، وہیں بھیک مانگنے کے روایتی طریقے بھی بدل چکے ہیں۔ اب بھکاری گلی محلوں کے بجائے آپ کے موبائل فون کی اسکرین پر، فیس بک گروپس اور واٹس ایپ چیٹس میں نظر آتے ہیں۔ بظاہر یہ معصوم اور مجبور لگنے والے چہرے درحقیقت ایک ایسے عالمی سنڈیکیٹ کا حصہ ہو سکتے ہیں جو آپ کے جذبات اور عقیدت سے کھیل رہا ہے۔

منظم طریقہ واردات: معصومیت کا کاروبار

​ہماری تحقیق کے مطابق، ڈیجیٹل بھکاریوں کا یہ گروہ چند مخصوص مراحل میں اپنا جال بچھاتا ہے:

  • جعلی پروفائلز کا جال: فیس بک اور انسٹاگرام پر ایسی پروفائلز بنائی جاتی ہیں جن میں کسی بیمار بچے یا بیوہ خاتون کی دل دہلا دینے والی تصاویر لگائی جاتی ہیں۔
  • وائرل مواد کا استعمال: یہ گروہ جذباتی ویڈیوز اور اپیلیں تیار کرتے ہیں تاکہ لوگ اسے ثواب سمجھ کر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
  • ادائیگی کے نجی ذرائع: اکثر اوقات یہ لوگ کسی مستند فلاحی ادارے کے بجائے براہِ راست ایزی پیسہ، جاز کیش یا بیرونِ ملک سے رقم منگوانے کے لیے نجی اکاؤنٹس دیتے ہیں۔

The Twist of Time: گلی کے کونے سے ویب کے کونے تک

​تاریخ بتاتی ہے کہ بھکاریوں نے ہمیشہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ خود کو ڈھالا ہے۔ ماضی میں یہ گروہ صرف شہروں کے مخصوص ناکوں پر قابض ہوتے تھے، لیکن آج انٹرنیٹ نے انہیں سرحدوں سے آزاد کر دیا ہے۔ ایک کلک پر لندن سے لے کر لاہور تک کے لوگوں سے "صدقہ" وصول کیا جا رہا ہے، جس کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں۔

تحقیقاتی انکشاف: پیسہ جاتا کہاں ہے؟

​گہری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس طرح جمع ہونے والی رقم کا 80 فیصد حصہ ان مجبور لوگوں تک کبھی نہیں پہنچتا جن کی تصویریں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ پیسہ:

  • ​سوشل میڈیا پر اشتہارات چلانے (Paid Promotions) کے لیے استعمال ہوتا ہے تاکہ مزید لوگوں کو پھنسایا جا سکے۔
  • ​منظم جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

احتیاط اور حل: اصل حق دار تک کیسے پہنچیں؟

​ایک ذمہ دار شہری اور مسلمان ہونے کے ناطے، ہمیں درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:

  1. تصدیق (Verification): کسی بھی آن لائن اپیل پر یقین کرنے سے پہلے متعلقہ ہسپتال یا علاقے کے مقامی لوگوں سے رابطہ کریں۔
  2. رجسٹرڈ ادارے: ہمیشہ ان اداروں کو عطیات دیں جو حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں۔
  3. رپورٹ کریں: اگر آپ کو کوئی مشکوک اکاؤنٹ نظر آئے تو اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رپورٹ کریں تاکہ دوسروں کا مال ضائع ہونے سے بچ سکے۔

نتیجہ:

صدقہ دینا ایک عظیم نیکی ہے، لیکن غلط جگہ پر دیا گیا صدقہ کسی جرم کی آبیاری بھی کر سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات کے بجائے شعور سے کام لیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی