"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
دوستو، اگر ہم آپ سے کہیں کہ جس لکڑی سے ہم فرنیچر بناتے ہیں، اب اسی لکڑی سے بنے ہوئے سیٹلائٹ خلا میں چکر لگائیں گے، تو شاید آپ ہمیں دیوانہ سمجھیں۔ لیکن جناب! جاپان کے سائنسدانوں نے یہ "کارنامہ" کر دکھایا ہے۔ دنیا کی پہلی لکڑی کی سیٹلائٹ، جس کا نام LignoSat ہے، اب خلا کی وسعتوں میں روانہ ہو چکی ہے۔ یہ خبر سن کر تو بڑے بڑے سپیس ایکسپرٹس بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ لکڑی تو فوراََ جل جاتی ہے، پھر خلا میں یہ کیسے بچے گی؟ یہی تو کمال ہے! خلا میں آکسیجن نہیں ہوتی، اور آگ لگنے کے لیے آکسیجن لازمی ہے۔ جاپانی ماہرین نے خاص طور پر "Magnolia" نامی لکڑی استعمال کی ہے، جو اپنی پائیداری کے لیے مشہور ہے۔ یہ لکڑی خلا کی انتہائی سردی اور تپتی دھوپ کا مقابلہ دھاتی سیٹلائٹس سے بھی بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔
موجودہ دور میں خلا کا کچرا (Space Junk) ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب پرانی دھاتی سیٹلائٹس واپس زمین کی طرف آتی ہیں تو وہ فضا میں ایلومینیم کے زہریلے ذرات چھوڑتی ہیں جو ہماری اوزون لیئر کو تباہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ لکڑی کی سیٹلائٹ واپسی پر کسی شہابِ ثاقب کی طرح جل کر راکھ ہو جائے گی اور ماحول پر کوئی برا اثر نہیں ڈالے گی۔ یہ Geopolitics کے اس دور میں ایک بہت بڑا Diplomatic Shift بھی ہے کہ اب ٹیکنالوجی کو ماحول دوست بنایا جا رہا ہے۔
یہ تجربہ صرف ایک سیٹلائٹ تک محدود نہیں ہے۔ اگر یہ کامیاب رہا تو مستقبل میں چاند اور مریخ پر بننے والی انسانی بستیاں بھی لکڑی سے بنائی جا سکیں گی۔ تصور کریں، زمین سے لاکھوں میل دور لکڑی کے گھروں میں رہنا کتنا عجیب اور سحر انگیز ہوگا۔ یہ Space Exploration کی تاریخ میں "The Twist of Time" ثابت ہونے والا ہے۔
انسان کی جستجو اسے وہاں لے آئی ہے جہاں قدیم روایات (لکڑی کا استعمال) اور جدید ترین سائنس مل رہے ہیں۔ یہ آرٹیکل آپ کو کیسا لگا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم لکڑی کے جہازوں میں بیٹھ کر مریخ کی سیر کریں گے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں