"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

لکڑی کا تختہ اور خلا کا سفر: ایک 'انہونی' حقیقت!

Voice of World Urdu 

 

لکڑی کا تختہ اور خلا کا سفر: ایک 'انہونی' حقیقت!

سائنس ڈیسک: (وائس آف ورلڈ )

​دوستو، اگر ہم آپ سے کہیں کہ جس لکڑی سے ہم فرنیچر بناتے ہیں، اب اسی لکڑی سے بنے ہوئے سیٹلائٹ خلا میں چکر لگائیں گے، تو شاید آپ ہمیں دیوانہ سمجھیں۔ لیکن جناب! جاپان کے سائنسدانوں نے یہ "کارنامہ" کر دکھایا ہے۔ دنیا کی پہلی لکڑی کی سیٹلائٹ، جس کا نام LignoSat ہے، اب خلا کی وسعتوں میں روانہ ہو چکی ہے۔ یہ خبر سن کر تو بڑے بڑے سپیس ایکسپرٹس بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

یہ لکڑی خلا میں جلے گی کیوں نہیں؟

​آپ سوچ رہے ہوں گے کہ لکڑی تو فوراََ جل جاتی ہے، پھر خلا میں یہ کیسے بچے گی؟ یہی تو کمال ہے! خلا میں آکسیجن نہیں ہوتی، اور آگ لگنے کے لیے آکسیجن لازمی ہے۔ جاپانی ماہرین نے خاص طور پر "Magnolia" نامی لکڑی استعمال کی ہے، جو اپنی پائیداری کے لیے مشہور ہے۔ یہ لکڑی خلا کی انتہائی سردی اور تپتی دھوپ کا مقابلہ دھاتی سیٹلائٹس سے بھی بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔

ماحول دوستی کا نیا انقلاب

​موجودہ دور میں خلا کا کچرا (Space Junk) ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب پرانی دھاتی سیٹلائٹس واپس زمین کی طرف آتی ہیں تو وہ فضا میں ایلومینیم کے زہریلے ذرات چھوڑتی ہیں جو ہماری اوزون لیئر کو تباہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ لکڑی کی سیٹلائٹ واپسی پر کسی شہابِ ثاقب کی طرح جل کر راکھ ہو جائے گی اور ماحول پر کوئی برا اثر نہیں ڈالے گی۔ یہ Geopolitics کے اس دور میں ایک بہت بڑا Diplomatic Shift بھی ہے کہ اب ٹیکنالوجی کو ماحول دوست بنایا جا رہا ہے۔

مستقبل کی بستیاں: مٹی اور لکڑی کا ملاپ؟

​یہ تجربہ صرف ایک سیٹلائٹ تک محدود نہیں ہے۔ اگر یہ کامیاب رہا تو مستقبل میں چاند اور مریخ پر بننے والی انسانی بستیاں بھی لکڑی سے بنائی جا سکیں گی۔ تصور کریں، زمین سے لاکھوں میل دور لکڑی کے گھروں میں رہنا کتنا عجیب اور سحر انگیز ہوگا۔ یہ Space Exploration کی تاریخ میں "The Twist of Time" ثابت ہونے والا ہے۔

انسان کی جستجو اسے وہاں لے آئی ہے جہاں قدیم روایات (لکڑی کا استعمال) اور جدید ترین سائنس مل رہے ہیں۔ یہ آرٹیکل آپ کو کیسا لگا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم لکڑی کے جہازوں میں بیٹھ کر مریخ کی سیر کریں گے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی