"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
عظمیٰ اسحاق بلاگ :
خواتین کا عالمی دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں ہے، بلکہ یہ ان ان گنت کہانیوں، قربانیوں اور اس خاموش ہمت کا اعتراف ہے جو صدیوں سے ہمارے گھروں اور معاشروں کو تھامے ہوئے ہے۔ جب ہم 8 مارچ کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں ان خواتین کا خیال آتا ہے جنہوں نے نیویارک کی سڑکوں پر محض اس لیے احتجاج کیا تھا کہ انہیں انسان سمجھا جائے، انہیں کام کے مناسب اوقات ملیں اور ان کی رائے کی اہمیت ہو۔
اس دن کی بنیاد کسی جشن پر نہیں بلکہ ایک سخت جدوجہد پر رکھی گئی تھی۔ یہ سب تب شروع ہوا جب محنت کش خواتین نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ پھر کلارا زیٹکن جیسی خواتین نے اسے ایک عالمی تحریک کی شکل دی تاکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھی عورت خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ روس میں خواتین کی وہ تاریخی ہڑتال، جس نے بادشاہت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، وہیں سے 8 مارچ کی یہ تاریخ ہمارے سامنے آئی۔ آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ حق مانگنے سے نہیں بلکہ چھیننے سے ملتا ہے، اور خواتین نے یہ کر دکھایا۔
اگر ہم آج کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو تصویر کے دو رخ نظر آتے ہیں۔ ایک طرف وہ عورت ہے جو خلا میں جا رہی ہے، ملک چلا رہی ہے اور گھر بیٹھے اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر رہی ہے۔ یہ دیکھ کر دل کو سکون ملتا ہے کہ اب تعلیم اور ہنر صرف کسی ایک صنف کی میراث نہیں رہے۔ لیکن دوسری طرف تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ آج بھی بہت سے معاشروں میں عورت کو اپنی بنیادی حفاظت اور برابر کی اجرت کے لیے لڑنا پڑ رہا ہے۔ تشدد کے واقعات اور صنفی امتیاز اب بھی ہمارے معاشرے کے ماتھے پر کلنک ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ خواتین کا عالمی دن منانے کا مقصد صرف ایک دن کے لیے تعریف کرنا یا پھول دینا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد اس سوچ کو بدلنا ہے جو عورت کو کمزور سمجھتی ہے۔ ہمیں ایک ایسی دنیا بنانی ہے جہاں کسی بیٹی، بہن یا ماں کو اپنے خواب پورے کرنے کے لیے کسی سے اجازت نہ لینی پڑے بلکہ اسے وہ تمام مواقع میسر ہوں جو کسی بھی انسان کا حق ہیں۔
یہ سفر تھکا دینے والا ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب تک معاشرے کا آدھا حصہ پیچھے رہے گا، پوری انسانیت کبھی ترقی نہیں کر سکے گی۔ ہمیں مل کر ایک ایسا ماحول تخلیق کرنا ہے جہاں ہر عورت سر اٹھا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں