"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک نئے اور سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران کی دھمکیوں کے بعد، اب دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک، سعودی عرب نے اپنا بھرپور جوابی معاشی محاذ کھول دیا ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی 'آرامکو' کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے اس بحران کو خطے میں تیل اور گیس کی صنعت کے لیے تاریخ کا "سنگین ترین بحران" قرار دے دیا ہے۔
آرامکو کی وارننگ: "تباہی دور نہیں"
آرامکو کے سربراہ نے اپنی سالانہ مالی رپورٹ پیش کرتے ہوئے انتہائی سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور تیل کی رسد میں معمولی سی رکاوٹ بھی آئی، تو اس کے اثرات کسی ایک ملک پر نہیں بلکہ پوری عالمی منڈی پر "تباہ کن" ہوں گے۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی عرب آبنائے ہرمز پر کسی قسم کی ایرانی اجارہ داری یا بندش کو برداشت نہیں کرے گا کیونکہ یہ راستہ سعودی تیل کی برآمدات کے لیے "شہ رگ" کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایران کا "ایک لیٹر بھی نہیں" کا چیلنج
دوسری طرف، ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اپنے دھمکی آمیز لہجے کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ان کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھیں، تو وہ مشرقِ وسطیٰ کے کسی بھی ملک کا "ایک لیٹر تیل بھی" اس راستے سے گزرنے نہیں دیں گے۔ ایران اسٹریٹجک کارڈ کھیل کر عالمی طاقتوں کو براہِ راست توانائی کے بحران میں دھکیلنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردِعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایران کو ایسی فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے جو ماضی کی تمام کارروائیوں سے "20 گنا زیادہ سخت" ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ عالمی توانائی کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرے گا۔
وائس آف ورلڈ اردو کا تجزیہ: "عالمی منڈی کا زلزلہ"۔ اس خبر کے دو بڑے رخ ہیں:
سعودی-ایران ٹکراؤ: آبنائے ہرمز پر ایران کا "بندش" کا بیانیہ اور سعودی عرب کا "بھرپور جوابی محاذ" براہِ راست عالمی طاقتوں کو ایک بڑی جنگ میں گھسیٹ سکتا ہے۔ سعودی عرب کا آرامکو کے ذریعے وارننگ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس مسئلے پر کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائے گا۔
معاشی اثرات: اگر آبنائے ہرمز واقعی بند ہوا، تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی، جس کا براہِ راست اثر پاکستان کے کسانوں، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی قیمتوں پر پڑے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں