ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات: عالمی سفارت کاری کا اہم امتحان: سیف الرحمن سیفی کی خصوصی رپورٹ
قسط نمبر 1
اگر کوئی ریاست کھلے عام یہ اعلان کرے کہ اس کا مقصد موجودہ ورلڈ آرڈر کو ختم کرنا اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو شکست دینا (مرگ بر امریکہ) ہے تو عالمی نظام اس کو کیسے دیکھے گا؟
اور اگر وہی ریاست یہ بھی کہے کہ اس کا دوسرا ہدف مڈل ایسٹ میں اسرائیل کا خاتمہ ہے، تو کیا عالمی طاقتیں اسے صرف ایک نظریاتی بیان سمجھ کر نظر انداز کر دیں گی؟
یہ سوال دراصل موجودہ عالمی سیاست کے ایک بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
فرض کریں ایک تھیوکریٹک ریاست
* اپنے قدرتی وسائل کو فروخت کر کے خطے میں پراکسی نان اسٹیٹ ایکٹرز کھڑے کرے؛
* لبنان، شام، فلسطین، یمن اور افریقہ کے بعض حصوں میں اپنا اثر و رسوخ پھیلائے؛
* عرب دنیا میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھائے؛
* اپنے ملک کے اندر جمہوریت اور شہری آزادیوں کو محدود کر دے؛
* دور مار بیلسٹک میزائل اور ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیار تیار کرنے لگے؛
* اور ساتھ ہی دنیا کی بڑی معیشتوں کے لیے اہم انرجی کوریڈورز کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کرے۔
تو ایسی صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عالمی نظام اس چیلنج کا جواب کیسے دے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام بنیادی طور پر پانچ ویٹو طاقتوں کے توازن پر کھڑا ہے۔ یہی طاقتیں اس سسٹم کے اصل ستون ہیں۔
پاکستان میں بعض لوگ چین کو ایک ایسے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں جو اس عالمی نظام کو بدل سکتا ہے، لیکن شاید وہ یہ حقیقت نظر انداز کر دیتے ہیں کہ چین کی موجودہ معاشی ترقی بھی اسی ورلڈ آرڈر کا نتیجہ ہے۔ چین اس نظام کا ناقد ضرور ہے، مگر ساتھ ہی اس کا ایک بڑا فائدہ اٹھانے والا بھی ہے۔ آج چین امریکہ اور یورپی یونین کا بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور عالمی تجارت میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح روس بھی اسی نظام کے اندر ایک بڑی طاقت کے طور پر موجود ہے۔
چند روز قبل ایک امریکی عہدیدار نے بھارت میں کھڑے ہو کر کہا کہ:
"چین کے معاملے میں جو غلطی ہوئی، امریکہ وہی غلطی بھارت کے معاملے میں نہیں دہرائے گا۔"
اس بیان کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ اب کسی بھی ابھرتی ہوئی ریاست کو ایسی غیر محدود معاشی رعایتیں دینے کے حق میں نہیں ہوگا جو بعد میں ایک فوجی طاقت میں تبدیل ہو کر عالمی نظام کو چیلنج کرے۔
افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ نے ایک نئی ریجنل پالیسی متعارف کروائی۔ اس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں علاقائی طاقتیں اپنے اپنے علاقوں کے استحکام اور مسائل کے حل میں حصہ بقدر جثہ ذمہ داری اٹھائیں۔
یعنی اگر کوئی ریاست عالمی نظام سے فائدہ اٹھا رہی ہے تو اسے اس نظام کے استحکام میں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اسی دوران چین نے مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیاں تیز کیں اور افغانستان کے معاملات میں بھی دلچسپی لی، مگر زیادہ تر تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات بنیادی طور پر چین کے اپنے معاشی مفادات تک محدود رہے۔ اس طرح چین نے ایک ایسا موقع ضائع کر دیا جس کے ذریعے وہ بتدریج ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر سامنے آ سکتا تھا۔
اب اگر اسی دوران عالمی انٹیلیجنس رپورٹس یہ بتا رہی ہوں کہ:
* ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ رہا ہے؛
* یمن میں اس کا اثر و رسوخ سعودی سرحدوں تک پہنچ چکا ہے؛
* اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے پراکسی نیٹ ورکس مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں؛
جبکہ چین، جس کا اس خطے میں معاشی اور سفارتی اثر موجود ہے، ان معاملات میں فعال کردار ادا کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لے تو درحقیقت یہ صورتحال عالمی سیاست کو ایک خاص سمت میں دھکیل دیتی ہے۔
یعنی بالآخر یہ ذمہ داری امریکہ پر آ جاتی ہے کہ وہ ایران کے ممکنہ ایٹمی پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کے خطرے سے نمٹے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر امریکہ اس چیلنج سے کامیابی سے نمٹ لیتا ہے تو بھی چین کو فائدہ ہے، اور اگر امریکہ اس میں الجھ جاتا ہے تو بھی عالمی طاقتوں کے توازن میں چین کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیکن حقیقت شاید اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ ایران۔اسرائیل۔امریکہ کشیدگی صرف ایک علاقائی تنازع ہے، یا یہ دراصل عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑے اسٹریٹیجک کھیل کا حصہ ہے؟
اسی سوال کو اگلی قسطوں میں مزید کھولنے کی کوشش کی جائے گی۔
"اس سلسلے کی دوسری قسط پڑھنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں