"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
پاکستان کی آدھی آبادی کو "چٹا ان پڑھ" رکھنا کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا معاشی منصوبہ ہے۔ حکمران اشرافیہ کا مفاد اسی میں ہے کہ یہ خلقِ خدا تعلیم سے دور رہے اور جو تھوڑا بہت پڑھ لکھ جائیں، انہیں مذہبی و مسلکی کہانیوں، قوم پرستی اور عصبیت کے اندھیروں میں الجھا دیا جائے۔ جب ذہن مفلوج ہوں تو جیب پر ڈاکہ ڈالنا آسان ہو جاتا ہے۔ اصل حقائق کیا ہیں؟ آئیے ان اعداد و شمار کے آئینے میں دیکھتے ہیں جو ہماری معیشت کی تباہی کی گواہی دے رہے ہیں۔
جدید ترقی یافتہ معیشتوں کی بنیاد آئی ٹی اور ٹیکنالوجی پر ہوتی ہے، جہاں یہ سیکٹر 15 سے 30 فیصد تک حصہ رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان کے معاشی نقشے پر ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کا وجود محض 3 فیصد ہے! اس کے برعکس، سب سے نمایاں اور طاقتور کھلاڑی کمرشل بینکنگ ہے جو مارکیٹ کا 22 فیصد حصہ گھیرے ہوئے ہے۔ یہ بینک کیا کر رہے ہیں؟ یہ عوام کو کاروبار کے لیے پیسہ نہیں دیتے، بلکہ ریاست کو سود پر قرض دے کر "محفوظ ڈکیتی" کر رہے ہیں۔ سود در سود کا یہ غبارہ صرف اشرافیہ کو پال رہا ہے جبکہ پیداواری شعبے دم توڑ رہے ہیں۔
پاکستان کبھی اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر فخر کرتا تھا، جو ہماری سب سے بڑی ایکسپورٹ ہے، مگر آج وہ بھی سمٹ کر محض 3 فیصد پر آ چکی ہے۔ دوسری طرف، تمباکو جیسی مضرِ صحت انڈسٹری معیشت میں 9 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ یعنی ہم قوم کو کپڑا پہنانے اور برآمدات بڑھانے کے بجائے اسے دھوئیں میں اڑانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سیمنٹ، کیمیکلز اور فرٹیلائزر جیسے دیگر بڑے شعبے بھی صرف مقامی ضرورت (لوکل کنزمپشن) کے لیے ہیں، عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔
معیشت کا ایک بڑا حصہ یعنی 15 فیصد آئل اور گیس کی ایکسپلوریشن پر مشتمل ہے، جو ہماری انرجی ڈیپنڈنسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم بنیادی طور پر ایک ایسی معیشت بن چکے ہیں جو صرف سروسز اور روایتی انڈسٹریز پر منحصر ہے۔ جب ٹیکنالوجی غائب ہو اور ایکسپورٹ سیکٹر کمزور پڑ جائے، تو معاشی گروتھ کا خواب ایک سراب بن جاتا ہے۔ یہ وہ "سٹرکچرل کینسر" ہے جس کا علاج کسی حکومت کے پاس نہیں۔
یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہماری معیشت پیداوار پر نہیں، بلکہ "ایکسٹرکشن" (نچوڑنے) پر چل رہی ہے۔ جب ایکسپورٹ ختم ہو جائے اور ٹیکنالوجی دم توڑ دے، تو اشرافیہ کے پاس اپنا لائف اسٹائل برقرار رکھنے کا ایک ہی راستہ بچتا ہے: عوام کا خون نچوڑ لو! کبھی ٹیکس کے نام پر، کبھی پیٹرول کی قیمت میں، اور کبھی مہنگائی کے بہانے۔
یہ معاشی ڈھانچہ اب ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ان اعداد و شمار کو سمجھ کر "خبر کو الٹ" پڑھنا نہ سیکھا، تو یہ منظم نظام ہمیں مکمل طور پر مفلوج کر دے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں