"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

ٹیکنالوجی ناپید، سودی بینکاری کا راج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Voice of World Urdu 

حکمران ہیں یا ڈکیت؟ معاشی کینسر کا کچا چٹھا!

​پاکستان کی آدھی آبادی کو "چٹا ان پڑھ" رکھنا کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا معاشی منصوبہ ہے۔ حکمران اشرافیہ کا مفاد اسی میں ہے کہ یہ خلقِ خدا تعلیم سے دور رہے اور جو تھوڑا بہت پڑھ لکھ جائیں، انہیں مذہبی و مسلکی کہانیوں، قوم پرستی اور عصبیت کے اندھیروں میں الجھا دیا جائے۔ جب ذہن مفلوج ہوں تو جیب پر ڈاکہ ڈالنا آسان ہو جاتا ہے۔ اصل حقائق کیا ہیں؟ آئیے ان اعداد و شمار کے آئینے میں دیکھتے ہیں جو ہماری معیشت کی تباہی کی گواہی دے رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی ناپید، سودی بینکاری کا راج

​جدید ترقی یافتہ معیشتوں کی بنیاد آئی ٹی اور ٹیکنالوجی پر ہوتی ہے، جہاں یہ سیکٹر 15 سے 30 فیصد تک حصہ رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان کے معاشی نقشے پر ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کا وجود محض 3 فیصد ہے! اس کے برعکس، سب سے نمایاں اور طاقتور کھلاڑی کمرشل بینکنگ ہے جو مارکیٹ کا 22 فیصد حصہ گھیرے ہوئے ہے۔ یہ بینک کیا کر رہے ہیں؟ یہ عوام کو کاروبار کے لیے پیسہ نہیں دیتے، بلکہ ریاست کو سود پر قرض دے کر "محفوظ ڈکیتی" کر رہے ہیں۔ سود در سود کا یہ غبارہ صرف اشرافیہ کو پال رہا ہے جبکہ پیداواری شعبے دم توڑ رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل کا جنازہ اور تمباکو کا غلبہ

​پاکستان کبھی اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر فخر کرتا تھا، جو ہماری سب سے بڑی ایکسپورٹ ہے، مگر آج وہ بھی سمٹ کر محض 3 فیصد پر آ چکی ہے۔ دوسری طرف، تمباکو جیسی مضرِ صحت انڈسٹری معیشت میں 9 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ یعنی ہم قوم کو کپڑا پہنانے اور برآمدات بڑھانے کے بجائے اسے دھوئیں میں اڑانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سیمنٹ، کیمیکلز اور فرٹیلائزر جیسے دیگر بڑے شعبے بھی صرف مقامی ضرورت (لوکل کنزمپشن) کے لیے ہیں، عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔

انرجی پر انحصار اور سٹرکچرل کینسر

​معیشت کا ایک بڑا حصہ یعنی 15 فیصد آئل اور گیس کی ایکسپلوریشن پر مشتمل ہے، جو ہماری انرجی ڈیپنڈنسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم بنیادی طور پر ایک ایسی معیشت بن چکے ہیں جو صرف سروسز اور روایتی انڈسٹریز پر منحصر ہے۔ جب ٹیکنالوجی غائب ہو اور ایکسپورٹ سیکٹر کمزور پڑ جائے، تو معاشی گروتھ کا خواب ایک سراب بن جاتا ہے۔ یہ وہ "سٹرکچرل کینسر" ہے جس کا علاج کسی حکومت کے پاس نہیں۔

نتیجہ: عوام کا خون نچوڑنے کا فن

​یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہماری معیشت پیداوار پر نہیں، بلکہ "ایکسٹرکشن" (نچوڑنے) پر چل رہی ہے۔ جب ایکسپورٹ ختم ہو جائے اور ٹیکنالوجی دم توڑ دے، تو اشرافیہ کے پاس اپنا لائف اسٹائل برقرار رکھنے کا ایک ہی راستہ بچتا ہے: عوام کا خون نچوڑ لو! کبھی ٹیکس کے نام پر، کبھی پیٹرول کی قیمت میں، اور کبھی مہنگائی کے بہانے۔

​یہ معاشی ڈھانچہ اب ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ان اعداد و شمار کو سمجھ کر "خبر کو الٹ" پڑھنا نہ سیکھا، تو یہ منظم نظام ہمیں مکمل طور پر مفلوج کر دے گا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی