"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| "Colonel Alexander Gardner American General in Sikh Empire - Voice of World Urdu" |
علی رضا (Voice of World Urdu)
مطالعے کا دورانیہ: 9 منٹ
تاریخ کے اوراق میں بعض ایسے کردار ملتے ہیں جن کی زندگی کسی سنسنی خیز ناول سے زیادہ حیرت انگیز محسوس ہوتی ہے۔ الیگزینڈر گارڈنر، جسے مقامی لوگ 'گورڈانا خان' کے نام سے جانتے تھے، ایک ایسا ہی معمہ تھا جس نے انیسویں صدی کے برصغیر اور وسط ایشیا کی تاریخ میں اپنا نام بارود کے دھوئیں اور خون کی چھینٹوں سے لکھا۔ وہ شخص جو اپنی مخصوص 'چیتا نما' وردی اور سر پر سکاٹش ٹوپی پہنے، رنجیت سنگھ کی توپوں کا رخ متعین کرتا تھا، دراصل ایک ایسی مہم جوئی کی علامت تھا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
گارڈنر کی کہانی کا آغاز کسی یورپی یا ایشیائی ملک سے نہیں، بلکہ شمالی امریکہ کے ساحلوں سے ہوا۔ ان کی اپنی یادداشتوں، جس کا تدوینی کام 'ہیوج پیئرس' نے کیا، کے مطابق وہ 1785 میں امریکہ میں پیدا ہوئے، مگر سکون ان کی فطرت میں نہ تھا۔ مہم جوئی کی تلاش انہیں پہلے روس اور پھر ایران کے راستے افغانستان کے ان سنگلاخ پہاڑوں میں لے آئی جہاں موت ہر موڑ پر گھات لگائے بیٹھی ہوتی تھی۔ گارڈنر وہ پہلے امریکی تھے جنہوں نے وسط ایشیا کے ان دشوار گزار راستوں کو عبور کیا جہاں اس وقت کے بڑے بڑے مہم جو جانے سے کتراتے تھے۔
تاہم، گارڈنر کی زندگی کا سب سے المناک اور ہولناک باب افغانستان کے ان بے رحم قبائلی علاقوں میں رقم ہوا جہاں وہ ایک مقامی سردار حبیب اللہ خان کی ملازمت میں تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مہم سے واپسی پر انہیں معلوم ہوا کہ ایک مقامی بغاوت کے دوران ان کے گھر پر حملہ کیا گیا ہے۔ گارڈنر جب اپنے ٹھکانے پر پہنچے تو وہاں زندگی کے آثار ختم ہو چکے تھے۔ ان کے دشمنوں نے ان کی افغان بیوی اور معصوم شیر خوار بچے کو بے دردی سے ذبح کر دیا تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں گارڈنر کی دنیا اجڑ گئی اور ان کے پاس کھونے کو کچھ نہ رہا۔ وہ مہینوں تک وسط ایشیا کے پہاڑوں اور جنگلوں میں ایک روح کی طرح بھٹکتے رہے، اور اسی دکھ نے ان کے اندر وہ سرد مہری اور بے خوفی پیدا کی جو بعد میں ان کی شخصیت کا خاصہ بنی۔
اسی بے خوفی کے عالم میں وہ 1832 کے لگ بھگ لاہور کے شاہی قلعے تک آپہنچے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ، جو اس وقت اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے غیر ملکی ماہرین کی تلاش میں تھے، گارڈنر کی فوجی مہارت اور توپ خانے کے علم سے بے حد متاثر ہوئے۔ گارڈنر کو 'کرنل آف آرٹلری' کا عہدہ دیا گیا۔ سکھ دربار میں ان کا رعب و دبدبہ اس قدر تھا کہ بڑے بڑے سردار ان سے مشورہ لینا ضروری سمجھتے تھے۔ ان کے گلے پر کٹنے کا ایک گہرا نشان تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایک جنگ کے دوران لگا تھا اور وہ اس زخم کو چھپانے کے لیے ہمیشہ ایک خاص پٹہ باندھے رکھتے تھے۔
الیگزینڈر گارڈنر نے ہری سنگھ نلوا کی بہادری اور پھر اینگلو سکھ جنگوں سے پہلے کی ان تمام ریشہ دوانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جنہوں نے سلطنت کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔ ان کی تحریریں بتاتی ہیں کہ کس طرح رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد اقتدار کی ہوس نے ایک عظیم فوج کو آپس میں لڑا کر انگریزوں کے لیے راستہ صاف کر دیا تھا۔ وہ ان چند غیر ملکیوں میں سے تھے جنہوں نے سکھ سلطنت کے عروج کو بھی دیکھا اور اس کے زوال کے نوحے بھی سنے۔
گارڈنر کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کا عجیب و غریب لباس تھا۔ وہ سکاٹ لینڈ کے 'ٹارٹن' کپڑے سے بنا ہوا ایک سوٹ پہنتے تھے جو دور سے کسی چیتے کی کھال جیسا لگتا تھا۔ یہ ان کی شناخت بن چکا تھا۔ انگریز افسر، جو بعد میں پنجاب پر قابض ہوئے، گارڈنر کو ایک مشکوک نظر سے دیکھتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک گارڈنر ایک ایسا 'سفید فام' تھا جو مکمل طور پر 'مقامی' ہو چکا تھا۔
اپنی زندگی کے آخری ایام میں گارڈنر کشمیر منتقل ہو گئے، جہاں مہاراجہ گلاب سنگھ نے انہیں جاگیر عطا کی تھی۔ وہاں بھی وہ اپنی وہی پرانی وردی پہن کر گھومتے تھے اور لوگوں کو اپنے ان سفروں کی کہانیاں سناتے تھے جو انہوں نے خیبر سے لے کر پامیر کی بلندیوں تک کیے تھے۔ 1877 میں جب ان کا انتقال ہوا، تو ان کے ساتھ وہ تمام راز بھی دفن ہو گئے جن کی تلاش میں آج بھی محققین سرگرداں ہیں۔
الیگزینڈر گارڈنر کی زندگی 'دی ٹوسٹ آف ٹائم' کی وہ بہترین مثال ہے جہاں ایک شخص سرحدوں، زبانوں اور مذہب کی حدود کو عبور کر کے ایک ایسی تاریخ رقم کرتا ہے جو صدیوں بعد بھی ہمیں حیرت زدہ کر دیتی ہے۔ وہ ایک امریکی تھا، مگر اس کی روح برصغیر کے پہاڑوں اور میدانوں میں بسی تھی۔ آج بھی سری نگر کے ایک قدیم قبرستان میں ان کی قبر ان تمام مہم جوئیوں کی خاموش گواہ ہے جو کبھی انسانی عزم و ہمت کی داستان ہوا کرتی تھیں۔
حوالہ جات (References):
Pearse, Hugh (1898): Soldier and Traveller: The Memoirs of Alexander Gardner.
Dalrymple, William: Return of a King (Context of Great Game).
Grey, C. & Garrett, H.L.O: European Adventurers of Northern India.
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں