"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
تحقیق: علی رضا (Voice of World Urdu)
مطالعے کا دورانیہ: 4 منٹ
تاریخ کے سینے میں بعض ایسے کردار دفن ہیں جن کی زندگی کے فیصلے جغرافیوں کی لکیریں بدل دیتے ہیں۔ ایک ایسا ہی کردار اطالوی نژاد جین بپٹسٹ وینٹورا تھا، جو نپولین بوناپارٹ کی شکست کے بعد بے روزگار ہوا تو اس کی دیوانگی اسے وسط ایشیا کے خطرناک راستوں سے ہوتی ہوئی لاہور کے شاہی قلعے تک لے آئی۔ یہ وہ دور تھا جب مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنی "خالصہ فوج" کو یورپی طرز پر ڈھالنے کا خواب دیکھ رہے تھے، اور وینٹورا وہ مہرہ ثابت ہوا جس نے سکھ سلطنت کی عسکری تاریخ میں 'دی ٹوسٹ آف ٹائم' (The Twist of Time) پیدا کر دیا۔
وینٹورا کی آمد محض ایک نوکری کی تلاش نہیں تھی بلکہ ایک نئی عسکری تہذیب کا آغاز تھا۔ مہاراجہ نے اس پر اس وقت اعتماد کیا جب لاہور میں کسی یورپی چہرے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وینٹورا نے 'فوجِ خاص' کی بنیاد رکھی اور سکھ سپاہیوں کو فرانسیسی طرز کی ڈرل اور ڈسپلن سکھایا۔ تاریخ دان لایڈ کیرو اور راج موہن گاندھی کی تحریروں میں اس کا ذکر ملتا ہے کہ کیسے اس اطالوی جرنیل نے پنجاب کی فوج کو اس قدر طاقتور بنا دیا کہ وہ افغانوں اور انگریزوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئی۔
تاہم، وینٹورا کی زندگی کا سب سے عجیب اور اچھوتا قصہ اس مشہورِ زمانہ "لیلیٰ گھوڑی" سے جڑا ہے جس کا ذکر آپ نے بی بی سی کی تحریر میں بھی دیکھا۔ یہ کوئی عام گھوڑی نہیں تھی بلکہ اس دور کے حکمرانوں کے لیے عزت اور انا کا مسئلہ تھی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ اس گھوڑی کو حاصل کرنے کے لیے اس قدر بے تاب تھے کہ انہوں نے پشاور کے حاکموں کے خلاف مہم جوئی کا فیصلہ کیا۔ وینٹورا ہی وہ شخص تھا جس نے اپنی فوجی حکمتِ عملی سے پشاور کے گورنروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور بالاخر اس "لیلیٰ" کو لاہور کے شاہی اصطبل کی زینت بنایا۔
الیگزینڈر گارڈنر کی یاداشتوں کے مطابق، وینٹورا صرف ایک فوجی نہیں تھا بلکہ اسے فنِ تعمیر اور سازشوں کے جال بننے میں بھی کمال حاصل تھا۔ اس نے لاہور میں اپنے لیے ایک شاندار محل تعمیر کروایا جو آج بھی انارکلی کے مقبرے کے قریب اپنی خاموش تاریخ سنا رہا ہے۔ لیکن رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد جب سکھ سلطنت اندرونی خلفشار کا شکار ہوئی، تو اس دیوانے جرنیل نے بھانپ لیا کہ اب وقت کا رخ بدل چکا ہے۔
وینٹورا، جس نے برسوں پنجاب کی مٹی پر حکومت کی تھی، اپنی تمام جمع پونجی اور یادیں سمیٹ کر واپس پیرس چلا گیا۔ وہ شخص جس نے پشاور کی گلیوں سے لے کر درہ خیبر تک سکھ فوج کے جھنڈے گاڑے تھے، اپنی زندگی کے آخری ایام فرانس کی گمنامی میں گزارے۔ اس کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اقتدار کے سورج ہمیشہ ایک ہی سمت سے نہیں نکلتے، اور کبھی کبھی ایک اجنبی کی دیوانگی کسی پوری قوم کی تقدیر بدلنے کا سبب بن جاتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں