"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
اردو ادب کا سب سے بڑا افسانہ نگار سعادت حسن منٹو صرف کتابوں تک محدود نہ تھا۔ منٹو کی زندگی کا ایک بڑا اور اہم حصہ بمبئی کی فلمی دنیا (بولی وڈ) میں گزرا، جہاں اس کی قلم کی نوک نے ایسی کہانیاں لکھیں جنہوں نے سینما کی تاریخ بدل دی۔
منٹو نے 1930 اور 40 کی دہائی میں 'امپیریل فلم کمپنی' اور 'بمبئی ٹاکیز' جیسے بڑے اداروں کے لیے کام کیا۔ اس نے کئی مشہور فلموں کے اسکرپٹ، مکالمے اور کہانیاں لکھیں، جن میں "اپنی نگریا"، "چل چل رے نو جوان"، "بیگم" اور "آٹھ دن" شامل ہیں۔ فلم "آٹھ دن" میں تو منٹو نے خود ایک اہم کردار بھی ادا کیا تھا۔
منٹو کا فلمی کام بھی اس کے افسانوں کی طرح حقیقت پسندی پر مبنی تھا۔ وہ فلمی دنیا کی چکا چوند کے پیچھے چھپے انسانی دکھوں کو بخوبی سمجھتا تھا۔ اس کی لکھی ہوئی فلموں میں سماجی برائیاں، انسانی نفسیات اور عام آدمی کی جدوجہد واضح نظر آتی تھی۔ اس نے اشوک کمار اور شیام جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور ان کے لیے لازوال مکالمے تخلیق کیے۔
1947 میں برصغیر کی تقسیم نے منٹو کو اپنی پیاری بمبئی چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان آنے کے بعد اس نے یہاں بھی فلمی دنیا میں قدم رکھنے کی کوشش کی اور فلم "بیلی" لکھی، لیکن لاہور کی فلمی صنعت بمبئی جیسی نہ تھی اور حالات کی ستم ظریفی نے اسے صرف افسانہ نگاری تک محدود کر دیا۔
منٹو نے نا صرف افسانے ، سکرہٹ اور مکالمے لکھے بلکہ انہوں نے ریڈیائی ڈرامے بھی لکھے جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں ، ہم وقتاً فوقتاً منٹو کے ان ریڈیائی ڈراموں پر بھی بات کریں گے جو کہ ابھی تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں