"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

سعادت حسن منٹو اور سینما: جب قلم نے کیمرے سے بات کی

Voice of World Urdu 

 

سعادت حسن منٹو اور سینما: جب قلم نے کیمرے سے بات کی

اردو ادب کا سب سے بڑا افسانہ نگار سعادت حسن منٹو صرف کتابوں تک محدود نہ تھا۔ منٹو کی زندگی کا ایک بڑا اور اہم حصہ بمبئی کی فلمی دنیا (بولی وڈ) میں گزرا، جہاں اس کی قلم کی نوک نے ایسی کہانیاں لکھیں جنہوں نے سینما کی تاریخ بدل دی۔

منٹو نے 1930 اور 40 کی دہائی میں 'امپیریل فلم کمپنی' اور 'بمبئی ٹاکیز' جیسے بڑے اداروں کے لیے کام کیا۔ اس نے کئی مشہور فلموں کے اسکرپٹ، مکالمے اور کہانیاں لکھیں، جن میں "اپنی نگریا"، "چل چل رے نو جوان"، "بیگم" اور "آٹھ دن" شامل ہیں۔ فلم "آٹھ دن" میں تو منٹو نے خود ایک اہم کردار بھی ادا کیا تھا۔

منٹو کا فلمی کام بھی اس کے افسانوں کی طرح حقیقت پسندی پر مبنی تھا۔ وہ فلمی دنیا کی چکا چوند کے پیچھے چھپے انسانی دکھوں کو بخوبی سمجھتا تھا۔ اس کی لکھی ہوئی فلموں میں سماجی برائیاں، انسانی نفسیات اور عام آدمی کی جدوجہد واضح نظر آتی تھی۔ اس نے اشوک کمار اور شیام جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور ان کے لیے لازوال مکالمے تخلیق کیے۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم نے منٹو کو اپنی پیاری بمبئی چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان آنے کے بعد اس نے یہاں بھی فلمی دنیا میں قدم رکھنے کی کوشش کی اور فلم "بیلی" لکھی، لیکن لاہور کی فلمی صنعت بمبئی جیسی نہ تھی اور حالات کی ستم ظریفی نے اسے صرف افسانہ نگاری تک محدود کر دیا۔ 

منٹو نے نا صرف افسانے ، سکرہٹ اور مکالمے لکھے بلکہ انہوں نے ریڈیائی ڈرامے بھی لکھے جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں ، ہم وقتاً فوقتاً منٹو کے ان ریڈیائی ڈراموں پر بھی بات کریں گے جو کہ ابھی تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی