"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

کوہِ سلیمان کے بیٹے: حقیقت، افسانہ اور تاریخ کے تضادات

Voice of World Urdu Documentary Visuals 

  کوہ سلیمان کے بیٹے: حقیقت، افسانہ اور تاریخ کے تضاد 

تحقیق و اشاعت : Voice of World Urdu 

تحریر کا دورانیہ: تقریباً 4 سے 5 منٹ

​ان سنگلاخ پہاڑوں اور وہاں بسنے والے بلند قامت لوگوں کی تاریخ اپنی بہادری اور مہمان نوازی کے ایسے قصے رکھتی ہے جو حقیقت اور اساطیر کے درمیان ایک دھندلی سی لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ دنیا جنہیں آج 'افغان' یا 'پشتون' کے نام سے جانتی ہے، ان کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ تاریخ کے صفحات میں پہلی بار کب نمودار ہوئے اور ان کے 'بنی اسرائیل' ہونے کے دعووں میں کتنی سچائی ہے؟

​ستارھویں صدی کے مغل دربار میں جب نعمت اللہ ہروی نے اپنی تصنیف 'مخزنِ افغانی' لکھی، تو اس میں ایک ایسی کہانی بیان کی گئی جس نے آنے والی کئی صدیوں تک مورخین کو تجسس میں ڈالے رکھا۔ اس روایت کے مطابق، افغانوں کا شجرہ نسب حضرت یعقوبؑ کے پوتے 'افغانہ' سے جا ملتا ہے، جو قدیم اسرائیل کے گمشدہ قبائل میں سے ایک تھے۔ ماہرینِ عمرانیات کے مطابق، اس دور میں ایک عظیم مذہبی نسب سے خود کو جوڑنا مغل دربار میں سماجی اور سیاسی برتری حاصل کرنے کی ایک ضرورت ہو سکتی تھی۔

​تاہم، جب جدید جینیاتی تحقیق اور لسانیات کے آئینے میں اس دعوے کو پرکھا جاتا ہے، تو تصویر مختلف نظر آتی ہے۔ 'یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ' اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Tests) یہ بتاتے ہیں کہ پشتونوں کا جینیاتی تعلق سامی (Semitic) قبائل کے بجائے زیادہ تر ہند-ایرانی اور وسطی ایشیائی گروہوں سے ہے۔ لسانی طور پر بھی، پشتو زبان کا ڈھانچہ عبرانی کے بجائے قدیم اوستائی اور پہلوی زبانوں کے قریب تر پایا گیا ہے۔

​تاریخی دستاویزات میں ان کا پہلا مستند سراغ چھٹی صدی عیسوی کے ہندوستانی مورخ وراہ میہرا کی تحریروں میں ملتا ہے، جہاں انہیں 'اوگانہ' کہا گیا ہے۔ اس کے بعد ساتویں صدی کے چینی سیاح ہوان سانگ نے کوہِ سلیمان کے دامن میں بسنے والے ان جفا کش لوگوں کو 'اپوکن' کے نام سے پکارا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان قبائل کی شناخت خالصتاً جغرافیائی اور مقامی تھی۔

​افغان اور پشتون کے درمیان فرق کی بحث بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ یہ خطہ۔ تاریخی طور پر 'افغان' وہ نام تھا جو فارسی بولنے والی پڑوسی اقوام نے ان کو دیا، جبکہ یہ خود کو اپنی زبان میں 'پشتون' یا 'پختون' کہتے رہے۔ اٹھارہویں صدی میں احمد شاہ ابدالی کی سلطنت کے قیام نے 'افغان' کو ایک سیاسی اور قومی پہچان دے دی، جو آج افغانستان کے ہر شہری کی شناخت ہے۔ لیکن ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف بسنے والے کروڑوں پشتونوں کے لیے ان کی نسلی شناخت آج بھی ان کے مشترکہ کلچر اور 'پشتون ولی' کے ضابطہ اخلاق میں پوشیدہ ہے۔

​برطانوی راج کے دوران جب 'مارشل ریس' کا نظریہ پیش کیا گیا، تو ان قبائل کو ایک ناقابلِ تسخیر اور سخت جان قوم کے طور پر پیش کیا گیا۔ جدید مورخین کا ماننا ہے کہ انگریزوں نے اپنی تذلیل اور جنگی شکستوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ان کی بہادری کو اساطیری رنگ دے کر پیش کیا، جس نے آگے چل کر ان کے بارے میں ایک خاص عالمی تاثر قائم کر دیا۔

​آج کوہِ سلیمان کے ان بیٹوں کی تاریخ افسانوں کی گرد میں چھپی ہوئی تو ضرور ہے، لیکن ان کے آثار، زبان اور روایات یہ گواہی دیتی ہیں کہ یہ اس مٹی کے وہ قدیم وارث ہیں جنہوں نے ہر دور کے فاتح کا راستہ روکا اور اپنی الگ پہچان کو مٹنے نہیں دیا۔

حوالہ جات (References):

  1. ​ہروی، نعمت اللہ۔ مخزنِ افغانی (1612ء)۔
  2. ​وراہ میہرا۔ برہت سنہتا (6th Century)۔
  3. ​ہوان سانگ۔ سی یو کی (سفرنامہ ہند)۔
  4. ​کارو، اولاف۔ دی پٹھان (The Pathans, 1958)۔
  5. ​جینیاتی تحقیق: American Journal of Physical Anthropology (پشتون ڈی این اے اسٹڈی)۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی