"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu Documentary Visuals |
تحریر کا دورانیہ: تقریباً 4 سے 5 منٹ
ان سنگلاخ پہاڑوں اور وہاں بسنے والے بلند قامت لوگوں کی تاریخ اپنی بہادری اور مہمان نوازی کے ایسے قصے رکھتی ہے جو حقیقت اور اساطیر کے درمیان ایک دھندلی سی لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ دنیا جنہیں آج 'افغان' یا 'پشتون' کے نام سے جانتی ہے، ان کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ تاریخ کے صفحات میں پہلی بار کب نمودار ہوئے اور ان کے 'بنی اسرائیل' ہونے کے دعووں میں کتنی سچائی ہے؟
ستارھویں صدی کے مغل دربار میں جب نعمت اللہ ہروی نے اپنی تصنیف 'مخزنِ افغانی' لکھی، تو اس میں ایک ایسی کہانی بیان کی گئی جس نے آنے والی کئی صدیوں تک مورخین کو تجسس میں ڈالے رکھا۔ اس روایت کے مطابق، افغانوں کا شجرہ نسب حضرت یعقوبؑ کے پوتے 'افغانہ' سے جا ملتا ہے، جو قدیم اسرائیل کے گمشدہ قبائل میں سے ایک تھے۔ ماہرینِ عمرانیات کے مطابق، اس دور میں ایک عظیم مذہبی نسب سے خود کو جوڑنا مغل دربار میں سماجی اور سیاسی برتری حاصل کرنے کی ایک ضرورت ہو سکتی تھی۔
تاہم، جب جدید جینیاتی تحقیق اور لسانیات کے آئینے میں اس دعوے کو پرکھا جاتا ہے، تو تصویر مختلف نظر آتی ہے۔ 'یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ' اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Tests) یہ بتاتے ہیں کہ پشتونوں کا جینیاتی تعلق سامی (Semitic) قبائل کے بجائے زیادہ تر ہند-ایرانی اور وسطی ایشیائی گروہوں سے ہے۔ لسانی طور پر بھی، پشتو زبان کا ڈھانچہ عبرانی کے بجائے قدیم اوستائی اور پہلوی زبانوں کے قریب تر پایا گیا ہے۔
تاریخی دستاویزات میں ان کا پہلا مستند سراغ چھٹی صدی عیسوی کے ہندوستانی مورخ وراہ میہرا کی تحریروں میں ملتا ہے، جہاں انہیں 'اوگانہ' کہا گیا ہے۔ اس کے بعد ساتویں صدی کے چینی سیاح ہوان سانگ نے کوہِ سلیمان کے دامن میں بسنے والے ان جفا کش لوگوں کو 'اپوکن' کے نام سے پکارا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان قبائل کی شناخت خالصتاً جغرافیائی اور مقامی تھی۔
افغان اور پشتون کے درمیان فرق کی بحث بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ یہ خطہ۔ تاریخی طور پر 'افغان' وہ نام تھا جو فارسی بولنے والی پڑوسی اقوام نے ان کو دیا، جبکہ یہ خود کو اپنی زبان میں 'پشتون' یا 'پختون' کہتے رہے۔ اٹھارہویں صدی میں احمد شاہ ابدالی کی سلطنت کے قیام نے 'افغان' کو ایک سیاسی اور قومی پہچان دے دی، جو آج افغانستان کے ہر شہری کی شناخت ہے۔ لیکن ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف بسنے والے کروڑوں پشتونوں کے لیے ان کی نسلی شناخت آج بھی ان کے مشترکہ کلچر اور 'پشتون ولی' کے ضابطہ اخلاق میں پوشیدہ ہے۔
برطانوی راج کے دوران جب 'مارشل ریس' کا نظریہ پیش کیا گیا، تو ان قبائل کو ایک ناقابلِ تسخیر اور سخت جان قوم کے طور پر پیش کیا گیا۔ جدید مورخین کا ماننا ہے کہ انگریزوں نے اپنی تذلیل اور جنگی شکستوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ان کی بہادری کو اساطیری رنگ دے کر پیش کیا، جس نے آگے چل کر ان کے بارے میں ایک خاص عالمی تاثر قائم کر دیا۔
آج کوہِ سلیمان کے ان بیٹوں کی تاریخ افسانوں کی گرد میں چھپی ہوئی تو ضرور ہے، لیکن ان کے آثار، زبان اور روایات یہ گواہی دیتی ہیں کہ یہ اس مٹی کے وہ قدیم وارث ہیں جنہوں نے ہر دور کے فاتح کا راستہ روکا اور اپنی الگ پہچان کو مٹنے نہیں دیا۔
حوالہ جات (References):
Well researched and very well written
جواب دیںحذف کریں