"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
تحقیق و تحریر: علی رضا (Voice of World Urdu)
مطالعہ کا دورانیہ: تقریباً 6 منٹ
انسان نے ہمیشہ سمجھا ہے کہ وہ قدرت کی گود میں اپنے گناہوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر سکتا ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ وقت کی بدلتی لہریں کبھی نہ کبھی سچ کو سطح پر لے ہی آتی ہیں۔ 1960 کی دہائی میں، جب سرد جنگ اپنے عروج پر تھی، امریکی فوج نے گرین لینڈ کی لامتناہی برفانی چادر کے نیچے ایک ایسا خفیہ شہر تعمیر کیا جس کا تصور بھی کسی سائنس فکشن فلم سے کم نہیں تھا۔ 'پروجیکٹ آئس ورم' کے نام سے منسوب اس مشن کا اصل مقصد گرین لینڈ کی برف کے اندر 600 میل طویل سرنگوں کا ایک ایسا جال بچھانا تھا جہاں سوویت یونین کو نشانہ بنانے کے لیے سینکڑوں ایٹمی میزائل نصب کیے جا سکیں۔ اس منصوبے کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کے لیے 'کیمپ سینچری' کا نام دیا گیا اور اسے ایک 'سائنسی تجربہ گاہ' کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس زیرِ زمین شہر کو توانائی فراہم کرنے کے لیے وہاں دنیا کا پہلا پورٹیبل ایٹمی ری ایکٹر (PM-2A) نصب کیا گیا تھا۔ یہاں کام کرنے والے فوجیوں کے لیے ہسپتال، سینما گھر اور لیبارٹریز بنائی گئیں، تاکہ وہ مہینوں تک سطحِ زمین سے کٹ کر یہاں رہ سکیں۔ تاہم، 1967 میں امریکی انجینئرز کو احساس ہوا کہ گلیشیئرز کی حرکت ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تیز ہے، جو ان سرنگوں کے ڈھانچے کو کچل رہی تھی۔ چنانچہ اس اڈے کو عجلت میں خالی کر دیا گیا۔ جاتے ہوئے امریکی ماہرین کا یہ خیال تھا کہ وہاں چھوڑا گیا تمام زہریلا فضلہ اور تابکاری "ہمیشہ کے لیے" برف میں منجمد رہے گی، لیکن وہ بدلتے ہوئے عالمی موسم یعنی 'گلوبل وارمنگ' کے اثرات کا درست اندازہ نہ لگا سکے۔
حالیہ برسوں میں جاری ہونے والی ڈی کلاسیفائیڈ (خفیہ فہرست سے نکالی گئی) دستاویزات اور ڈنمارک کے خارجہ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹس نے دنیا کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ سائنسی جریدے 'نیچر کلائمیٹ چینج' میں شائع ہونے والی 2016 کی ایک جامع تحقیق کے مطابق، گرین لینڈ کی برف جس رفتار سے پگھل رہی ہے، اس کے نتیجے میں سن 2090 تک اس اڈے میں چھوڑا گیا ہزاروں لیٹر تابکار پانی، زہریلے کیمیکلز (PCBs) اور خام تیل سمندر میں شامل ہونا شروع ہو سکتا ہے۔ یہ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بین الاقوامی سفارتی طوفان کا پیش خیمہ بھی ہے، کیونکہ یہ زہریلا مواد اس سرزمین پر موجود ہے جس کی ملکیت کا حق ڈنمارک کے پاس ہے جبکہ گناہ امریکہ کا ہے۔ آج وہ 'ایٹمی بھوت' دوبارہ بیدار ہو رہا ہے، جو یہ یاد دلاتا ہے کہ انسانی ہوس اور جنگی جنون کے نشانات کبھی مٹتے نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید بھیانک ہو کر سامنے آتے ہیں
تحریر: (وائس آف ورلڈ اردو)
حالیہ برسوں میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ خریدنے کی تجویز نے عالمی سطح پر ایک بحث چھیڑ دی تھی۔ بظاہر یہ ایک غیر منطقی مطالبہ لگتا ہے، لیکن اگر ہم 'پروجیکٹ آئس ورم' کے تناظر میں دیکھیں تو تصویر کے کئی اور پہلو سامنے آتے ہیں۔ تحقیقاتی مبصرین کے مطابق، امریکہ کے پاس اس وقت دو بڑے چیلنجز ہیں: اول، آرکٹک خطے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا، اور دوم، اس ایٹمی فضلے کی قانونی ذمہ داری سے بچنا جو دہائیوں پہلے گرین لینڈ کی برف تلے چھوڑا گیا تھا۔
اگر گرین لینڈ امریکہ کا حصہ بن جاتا ہے، تو بین الاقوامی قوانین کے تحت وہ تمام تابکار مواد اور زہریلا فضلہ 'اندرونی معاملہ' بن جائے گا، جس کے بعد ڈنمارک یا کوئی اور عالمی ادارہ اس پر جواب طلبی کا حق کھو دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، برف پگھلنے سے جو نئے سمندری راستے اور معدنیات کے ذخائر سامنے آ رہے ہیں، وہ امریکہ کو آنے والی صدی کی سب سے بڑی معاشی اور دفاعی طاقت بنا سکتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، امریکہ اس ایٹمی بوجھ کو اٹھانے کے لیے اس لیے تیار ہے کیونکہ اس کے عوض اسے 'مستقبل کی سپر پاور' بننے کی چابی مل رہی ہے۔ ڈنمارک کا اس ڈیل سے صاف انکار ثابت کرتا ہے کہ وہ اس زمین کی قیمت اور اس پر موجود تاریخی و ماحولیاتی بوجھ، دونوں سے بخوبی واقف ہے۔۔
حوالہ جات (References):
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں