"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
مطالعے کا دورانیہ: 4 منٹ
تہران کے ولی عصر ایونیو پر جب شام اپنی چادر پھیلاتی ہے تو فضائیں کسی قدیم فارسی نظم کی طرح پرسکون نہیں ہوتیں بلکہ ان میں ایک ایسی گھٹن محسوس ہوتی ہے جو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے 'امید' جیسے ہزاروں نوجوانوں کے چہروں پر ایک عجیب سی تھکن لکھی ہے، یہ وہ تھکن نہیں جو دن بھر کی مشقت سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ وہ بوجھ ہے جو دو متوازی طاقتوں کے ٹکراؤ نے ان کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ ایک طرف وہ نظام ہے جو اخلاقیات اور مذہب کے نام پر ان کے سانس لینے کی جگہ بھی تنگ کر دیتا ہے، جہاں ایک غلط لباس یا ایک آزادانہ جملہ آپ کے مستقبل پر کالک مل سکتا ہے، اور دوسری طرف وہ بیرونی 'نجات دہندہ' ہیں جو سرحد پار بیٹھے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے آزادی کا مژدہ سنا رہے ہیں۔
امید ایک چھوٹے سے کیفے کے اندھیرے کونے میں بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں جمائے ہوئے ہے، لیکن اس کی انگلیاں کی بورڈ پر منجمد ہو چکی ہیں کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کے ملک میں سنسر شپ کی قینچی اتنی تیز ہے کہ وہ اس کے خوابوں کو بھی کتر سکتی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اسے اس بات کا غم نہیں کہ کائنات بے حس ہے، اسے تو دکھ اس بات کا ہے کہ اس کے اپنے محافظوں نے اسے ایک ایسی جیل میں ڈال دیا ہے جہاں سے باہر کی دنیا کو صرف وہی نظر آتا ہے جو پروپیگنڈا کی مشینیں دکھانا چاہتی ہیں۔ جب مغربی میڈیا پر اسرائیل یا امریکہ کی بمباری کی خبریں آتی ہیں تو تہران کی گلیوں میں کوئی جشن نہیں منایا جاتا، کیونکہ یہاں کا عام شہری جانتا ہے کہ جب ہاتھی لڑتے ہیں تو کچلی جانے والی گھاس وہی ہے جس نے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہے۔ وہ نجات دہندہ جو جمہوریت کا نام لے کر آتے ہیں، ان کے میزائل یہ پوچھ کر نہیں گرتے کہ نیچے مرنے والا حکومت کا حامی ہے یا مخالف، وہ صرف تباہی لاتے ہیں اور پیچھے ایک ایسی 'زمینِ سوختہ' چھوڑ جاتے ہیں جہاں آنے والی نسلوں کے لیے صرف راکھ بچتی ہے۔
ایرانی عوام اس وقت تاریخ کے ایک ایسے عجیب موڑ پر کھڑے ہیں جہاں وہ دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں؛ ایک وہ جو اندر سے انہیں کچل رہا ہے اور دوسرا وہ جو باہر سے انہیں 'آزاد' کرنے کے نام پر ان کا انفراسٹرکچر اور سکون چھین رہا ہے۔ سنسر شپ کے آہنی پردے نے ان کی آواز کو اتنا دبا دیا ہے کہ دنیا تک صرف وہی موقف پہنچتا ہے جو یا تو ملاں رجیم چاہتی ہے یا وہ جو اسرائیل اور امریکہ کے مفاد میں ہوتا ہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھ پاتا کہ تہران کی یونیورسٹیوں میں بیٹھا وہ طالب علم کیا سوچ رہا ہے جو نہ تو اس بوسیدہ نظام کا حصہ بننا چاہتا ہے اور نہ ہی ان بیرونی حملوں کا خیر مقدم کرتا ہے جو اس کے وطن کو ایک قبرستان میں بدلنے کے درپے ہیں۔ یہ ایک ایسی خاموش اکثریت کا نوحہ ہے جس کی شطرنج کی اس بساط پر کوئی اہمیت نہیں، ان کے لیے ایران کوئی نظریاتی میدان نہیں بلکہ وہ گھر ہے جہاں وہ صرف امن سے جینا چاہتے تھے، مگر آج ان کے خواب بارود کے دھوئیں اور سنسر شپ کی سیاہی میں گم ہو چکے ہیں۔
غزہ اور ایران تمام دکھ ہیں
جواب دیںحذف کریں