"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
"ٹرمپ کا 'کائوس کارڈ': کیا عالمی میڈیا ایک منظم نفسیاتی جال میں پھنس چکا ہے؟"
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا وہ مشہور 'ٹرمپ کارڈ' کھیلا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف افراتفری یعنی 'Chaos' بیچنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا سمیت پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بھی اس منظم افراتفری کو اتنی ہی آسانی سے خرید لیا ہے جتنی مہارت سے اسے بیچا گیا تھا۔ لیکن اس سارے ہنگامے میں ایرانی حکام کی وہ دھیمی آواز کہیں ان سنی رہ گئی ہے جو مسلسل یہ دہرا رہے ہیں کہ ٹرمپ دراصل حملہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی شرائط منوانے کے لیے وقت حاصل کر رہا ہے۔ تاہم، جب ہم حقیقت کی نظر سے سمندروں کی صورتحال دیکھتے ہیں، تو منظر کچھ اور ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت بحیرہ عرب کی جانب گامزن امریکی میرینز، یو ایس ایس تریپولی، یو ایس ایس باکسر اور 82 ائیر بورن کی موجودگی محض ایک علامتی دھمکی نہیں ہو سکتی۔ اتنی بڑی فوجی نقل و حرکت تب ہی عمل میں لائی جاتی ہے جب میز پر صرف سفارت کاری نہیں بلکہ کسی بڑے فوجی آپریشن کا نقشہ بھی موجود ہو۔
اس کھیل کا دوسرا رخ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی جانب اٹھنے والا وہ اشارہ ہے جو انہیں ایک مشکل فیصلے کی دہلیز پر کھڑا کر رہا ہے۔ واشنگٹن کا پیغام واضح ہے کہ یا تو ابھی حتمی فیصلہ کر لیا جائے، یا پھر اس خطے میں تنہا چھوڑ دیے جانے کے لیے تیار رہا جائے۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی دباؤ ہے جس کا مقصد عرب ممالک کو ایک نئے اسلحے کی دوڑ میں دھکیلنا اور انہیں مستقل طور پر اپنی چھتری تلے رکھنا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کی موجودہ انتظامیہ کو صرف زخمی کر کے چھوڑنے کی حماقت کوئی کرے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ ادھوری جنگیں ہمیشہ زیادہ ہولناک نتائج لاتی ہیں۔ اس لیے، اگر یہ جنگ چھڑتی ہے، تو اس کے کچھ ایسے تزویراتی مقاصد ہوں گے جن کے بغیر واشنگٹن اسے ختم نہیں کرے گا۔ ان مقاصد میں ایران کی مکمل نیوکلیئر صلاحیت کا خاتمہ، بیلسٹک میزائل پروگرام کی جڑوں کو اکھاڑنا یا کم از کم ان کی حدود کا ایسا مستقل تعین کرنا شامل ہے جو اسرائیل اور خطے کے لیے خطرہ نہ رہیں۔
اس پورے منظر نامے میں پاکستان کی حیثیت اس مسافر جیسی ہے جو دو پاٹوں کے درمیان پسنے سے بچنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی پوری کوشش ہے کہ وہ ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کرے تاکہ اس عالمی کشمکش میں 'سینڈوچ' بننے سے بچ سکے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی غیر متوقع شخصیت کو کسی بھی معاہدے یا اصول کا پابند بنانا پاکستان کے بس کی بات نہیں۔ اگر یہ جنگ ٹل بھی جائے، تو ایران اور عرب ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی خلیج دہائیوں تک نہیں بھرے گی۔ خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہوگی، معاشی مسائل بڑھیں گے اور غیر یقینی کی ایک نئی لہر جنم لے گی۔ بظاہر تو شطرنج کی یہ بساط بچھ چکی ہے اور مہرے اپنی جگہ لے چکے ہیں، لیکن عالمی سیاست کی اس بساط پر اکثر وہ چالیں بھی چل دی جاتی ہیں جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ یہ 'The Twist of Time' ہی ہے جو طے کرے گا کہ تہران کی مٹی پر امن اترے گا یا بارود کا دھواں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں