"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

"ٹرمپ کا 'کائوس کارڈ': کیا عالمی میڈیا ایک منظم نفسیاتی جال میں پھنس چکا ہے؟"

 

​  

"ٹرمپ کا 'کائوس کارڈ': کیا عالمی میڈیا ایک منظم نفسیاتی جال میں پھنس چکا ہے؟"

بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا وہ مشہور 'ٹرمپ کارڈ' کھیلا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف افراتفری یعنی 'Chaos' بیچنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا سمیت پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بھی اس منظم افراتفری کو اتنی ہی آسانی سے خرید لیا ہے جتنی مہارت سے اسے بیچا گیا تھا۔ لیکن اس سارے ہنگامے میں ایرانی حکام کی وہ دھیمی آواز کہیں ان سنی رہ گئی ہے جو مسلسل یہ دہرا رہے ہیں کہ ٹرمپ دراصل حملہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی شرائط منوانے کے لیے وقت حاصل کر رہا ہے۔ تاہم، جب ہم حقیقت کی نظر سے سمندروں کی صورتحال دیکھتے ہیں، تو منظر کچھ اور ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت بحیرہ عرب کی جانب گامزن امریکی میرینز، یو ایس ایس تریپولی، یو ایس ایس باکسر اور 82 ائیر بورن کی موجودگی محض ایک علامتی دھمکی نہیں ہو سکتی۔ اتنی بڑی فوجی نقل و حرکت تب ہی عمل میں لائی جاتی ہے جب میز پر صرف سفارت کاری نہیں بلکہ کسی بڑے فوجی آپریشن کا نقشہ بھی موجود ہو۔

اس کھیل کا دوسرا رخ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی جانب اٹھنے والا وہ اشارہ ہے جو انہیں ایک مشکل فیصلے کی دہلیز پر کھڑا کر رہا ہے۔ واشنگٹن کا پیغام واضح ہے کہ یا تو ابھی حتمی فیصلہ کر لیا جائے، یا پھر اس خطے میں تنہا چھوڑ دیے جانے کے لیے تیار رہا جائے۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی دباؤ ہے جس کا مقصد عرب ممالک کو ایک نئے اسلحے کی دوڑ میں دھکیلنا اور انہیں مستقل طور پر اپنی چھتری تلے رکھنا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کی موجودہ انتظامیہ کو صرف زخمی کر کے چھوڑنے کی حماقت کوئی کرے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ ادھوری جنگیں ہمیشہ زیادہ ہولناک نتائج لاتی ہیں۔ اس لیے، اگر یہ جنگ چھڑتی ہے، تو اس کے کچھ ایسے تزویراتی مقاصد ہوں گے جن کے بغیر واشنگٹن اسے ختم نہیں کرے گا۔ ان مقاصد میں ایران کی مکمل نیوکلیئر صلاحیت کا خاتمہ، بیلسٹک میزائل پروگرام کی جڑوں کو اکھاڑنا یا کم از کم ان کی حدود کا ایسا مستقل تعین کرنا شامل ہے جو اسرائیل اور خطے کے لیے خطرہ نہ رہیں۔

اس پورے منظر نامے میں پاکستان کی حیثیت اس مسافر جیسی ہے جو دو پاٹوں کے درمیان پسنے سے بچنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی پوری کوشش ہے کہ وہ ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کرے تاکہ اس عالمی کشمکش میں 'سینڈوچ' بننے سے بچ سکے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی غیر متوقع شخصیت کو کسی بھی معاہدے یا اصول کا پابند بنانا پاکستان کے بس کی بات نہیں۔ اگر یہ جنگ ٹل بھی جائے، تو ایران اور عرب ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی خلیج دہائیوں تک نہیں بھرے گی۔ خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہوگی، معاشی مسائل بڑھیں گے اور غیر یقینی کی ایک نئی لہر جنم لے گی۔ بظاہر تو شطرنج کی یہ بساط بچھ چکی ہے اور مہرے اپنی جگہ لے چکے ہیں، لیکن عالمی سیاست کی اس بساط پر اکثر وہ چالیں بھی چل دی جاتی ہیں جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ یہ 'The Twist of Time' ہی ہے جو طے کرے گا کہ تہران کی مٹی پر امن اترے گا یا بارود کا دھواں۔ 

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی