"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: کیا ایران پر حملہ روس کے لیے ’بجٹ‘ کا تحفہ ثابت ہوگا؟ تحقیق و تجزیہ: وائس آف ورلڈ (The Twist of Time)

 


مشرقِ وسطیٰ میں جنگ: کیا ایران پر حملہ روس کے لیے ’بجٹ‘ کا تحفہ ثابت ہوگا؟

تحقیق و تجزیہ: وائس آف ورلڈ (The Twist of Time)

​تاریخ گواہ ہے کہ کریملن کے طاقتور حکمران ولادیمیر پوتن نے کبھی بھی اپنے اتحادی آمروں کے عبرتناک انجام کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ سنہ 2011 میں جب لیبیا کے معمر قذافی کا خاتمہ ہوا، تو پوتن نے اس کا بھرپور غصہ امریکہ پر نکالا اور واشنگٹن پر خطے میں انتشار پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

​لیکن حال ہی میں جب ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک حملے میں ہلاکت کی خبر آئی، تو ماسکو کا ردِعمل ماضی کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر محتاط رہا۔ پوتن نے تعزیتی پیغام تو بھیجا اور حملے کو اخلاقی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی قرار دیا، مگر حیرت انگیز طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لینے سے گریز کیا۔

ماسکو کی خاموشی کے پیچھے چھپے مقاصد

​سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس اپنے قریبی اتحادی ایران کے لیے میدانِ جنگ میں اترے گا؟ ماہرین کے مطابق اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس وقت ماسکو کی تمام تر توجہ دو اہم محاذوں پر ہے:

  1. یوکرین کا تنازع: جہاں وہ ایک سازگار امن معاہدے کی تلاش میں ہے۔
  2. ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات: روس کسی بھی صورت نو منتخب امریکی صدر کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔

جنگ روس کے لیے ’فائدہ مند‘ کیسے؟

​تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی آگ روس کے لیے کئی لحاظ سے ’بجٹ فرینڈلی‘ ثابت ہو سکتی ہے:

  • توجہ کا ہٹنا: اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں الجھ جاتا ہے، تو یوکرین کے لیے اس کی مالی اور فوجی امداد کم ہو جائے گی، جو براہِ راست روس کو فائدہ پہنچائے گی۔
  • تیل کی قیمتیں: جنگ کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ روس کے خزانے کو بھرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
  • سیاسی سودے بازی: ماسکو اس بحران کو ٹرمپ کے ساتھ کسی بڑے عالمی معاہدے کے لیے بطورِ مہرہ استعمال کر سکتا ہے۔

خلاصہ:

اگرچہ تہران پر حملے روس کے لیے کچھ پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں، لیکن بدلتی ہوئی عالمی بساط پر اپنے اتحادی کا دفاع کرنا فی الحال کریملن کی ترجیحات میں شامل نظر نہیں آتا۔ روس اس وقت ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کا بحران اس کے اپنے مقاصد کے لیے ایک سنہری موقع بن سکتا ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی