"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| voice of World Urdu Social security |
تحریر: علی رضا
پلیٹ فارم: Voice of World Urdu (The Twist of Time)
دورانیہ: 02 منٹ
پاکستان کی معیشت کا پہیہ گھمانے والے وہ ہاتھ، جن کی اپنی زندگی کی لکیریں مٹ رہی ہیں۔ ہم نے اکثر سڑکوں پر چلتے، گوداموں میں بوجھ اٹھاتے اور فٹ پاتھوں پر زندگی بسر کرتے ان چہروں کو دیکھا ہے جن کا ریاست کے کسی کاغذ میں نام نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اس ملک کے وہ گمنام سپاہی ہیں جن کا ریاست کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں۔
وہ مزدور جو صبح صادق سے لے کر رات گئے تک فیکٹریوں کے بند کمروں یا کسی تاریک گودام میں کام کرتے ہیں، ان کی محنت سے ملک تو چل رہا ہے، لیکن ان کا اپنا مستقبل دھندلا ہے۔ ایک عام محنت کش کے لیے سوشل سیکیورٹی کا مطلب صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی بیماری میں دوا، اس کے بچوں کی تعلیم اور اس کے بڑھاپے کا سہارا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے نظام کی بے حسی نے ان لاکھوں مزدوروں کو ایک ایسی "گمنام بستی" میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف محرومی ہے۔
آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی گمنامی کو اپنی وراثت سمجھ کر قبول کر لیں گی؟ کیا ہماری بیٹیاں بھی اسی خوف اور غیر یقینی کی فضا میں پروان چڑھیں گی؟ یہ وقت ہے کہ ہم ان گمنام چہروں کو پہچان دیں۔ اگر آج ہم نے ان کے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھائی، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں