"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

ریاست کے "گمنام سپاہی" اور سوشل سیکیورٹی کا ادھورا خواب

 

voice of World Urdu Social security 

ریاست کے "گمنام سپاہی" اور سوشل سیکیورٹی کا ادھورا خواب

تحریر: علی رضا

پلیٹ فارم: Voice of World Urdu (The Twist of Time)

دورانیہ: 02 منٹ 

​پاکستان کی معیشت کا پہیہ گھمانے والے وہ ہاتھ، جن کی اپنی زندگی کی لکیریں مٹ رہی ہیں۔ ہم نے اکثر سڑکوں پر چلتے، گوداموں میں بوجھ اٹھاتے اور فٹ پاتھوں پر زندگی بسر کرتے ان چہروں کو دیکھا ہے جن کا ریاست کے کسی کاغذ میں نام نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اس ملک کے وہ گمنام سپاہی ہیں جن کا ریاست کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں۔

​وہ مزدور جو صبح صادق سے لے کر رات گئے تک فیکٹریوں کے بند کمروں یا کسی تاریک گودام میں کام کرتے ہیں، ان کی محنت سے ملک تو چل رہا ہے، لیکن ان کا اپنا مستقبل دھندلا ہے۔ ایک عام محنت کش کے لیے سوشل سیکیورٹی کا مطلب صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی بیماری میں دوا، اس کے بچوں کی تعلیم اور اس کے بڑھاپے کا سہارا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے نظام کی بے حسی نے ان لاکھوں مزدوروں کو ایک ایسی "گمنام بستی" میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف محرومی ہے۔

​آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی گمنامی کو اپنی وراثت سمجھ کر قبول کر لیں گی؟ کیا ہماری بیٹیاں بھی اسی خوف اور غیر یقینی کی فضا میں پروان چڑھیں گی؟ یہ وقت ہے کہ ہم ان گمنام چہروں کو پہچان دیں۔ اگر آج ہم نے ان کے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھائی، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی