"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

اسلام آباد: کیا امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ملاقات ہونے جا رہی ہے؟


 اسلام آباد: کیا امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ملاقات ہونے جا رہی ہے؟

(Voice of World Urdu)

اسلام آباد، پاکستان — گذشتہ چند گھنٹوں سے بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں یہ خبریں زیرِ گردش ہیں کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسی تاریخی ملاقات کی میزبانی کر سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا رخ بدل دے گی۔

بیک چینل ڈپلومیسی اور پاکستان کا کردار

اگرچہ تہران اور واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ طور پر کسی بھی ملاقات کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم برطانوی اخبار دی گارڈین (The Guardian) اور خبر رساں ادارے رائٹرز (Reuters) کے مطابق، پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک 'پل' کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور امریکی وفد کے درمیان اسی ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں بات چیت متوقع ہے۔

امریکی وفد: کون شامل ہو سکتا ہے؟

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض افواہوں کے برعکس، جن میں سابق نائب صدر مائیک پینس کا نام لیا جا رہا ہے، سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حساس مشن کے لیے نومنتخب امریکی انتظامیہ کے اہم مہرے میدان میں ہیں۔ ان میں:

جے ڈی وینس (J.D. Vance): موجودہ امریکی نائب صدر۔

جیرڈ کشنر (Jared Kushner): سابق مشیر اور ٹرمپ کے قریبی ساتھی، جو مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff): صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی۔

تہران کا محتاط رویہ

دوسری جانب، ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان رپورٹس کو 'قیاس آرائیاں' قرار دے کر فی الحال مسترد کر دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اس حساس مرحلے پر اپنی پوزیشن کمزور نہیں کرنا چاہتا، خاص طور پر جب صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران پر ممکنہ حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

ماہرین کی رائے

پاکستان میں موجود دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقات اسلام آباد میں ہوتی ہے، تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ تاہم، اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک صرف 'تصادم روکنے' پر بات کریں گے یا کوئی 'بڑا معاہدہ' طے پانے والا ہے؟

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی