"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
اسلام آباد، پاکستان — گذشتہ چند گھنٹوں سے بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں یہ خبریں زیرِ گردش ہیں کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسی تاریخی ملاقات کی میزبانی کر سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا رخ بدل دے گی۔
اگرچہ تہران اور واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ طور پر کسی بھی ملاقات کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم برطانوی اخبار دی گارڈین (The Guardian) اور خبر رساں ادارے رائٹرز (Reuters) کے مطابق، پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک 'پل' کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور امریکی وفد کے درمیان اسی ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں بات چیت متوقع ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض افواہوں کے برعکس، جن میں سابق نائب صدر مائیک پینس کا نام لیا جا رہا ہے، سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حساس مشن کے لیے نومنتخب امریکی انتظامیہ کے اہم مہرے میدان میں ہیں۔ ان میں:
جے ڈی وینس (J.D. Vance): موجودہ امریکی نائب صدر۔
جیرڈ کشنر (Jared Kushner): سابق مشیر اور ٹرمپ کے قریبی ساتھی، جو مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff): صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی۔
دوسری جانب، ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان رپورٹس کو 'قیاس آرائیاں' قرار دے کر فی الحال مسترد کر دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران اس حساس مرحلے پر اپنی پوزیشن کمزور نہیں کرنا چاہتا، خاص طور پر جب صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران پر ممکنہ حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
پاکستان میں موجود دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقات اسلام آباد میں ہوتی ہے، تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ تاہم، اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک صرف 'تصادم روکنے' پر بات کریں گے یا کوئی 'بڑا معاہدہ' طے پانے والا ہے؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں