"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

تہران کی گرد میں اٹا غزہ

 

Voice of World Urdu 

تہران کی گرد میں اٹا غزہ

تحریر علی رضا (Voice of World Urdu)

​تہران کے آسمان پر جب میزائلوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے اور سفارتی راہداریوں میں ملاقاتوں کا غبار اڑتا ہے، تو اس شور میں وہ سسکیاں کہیں دب جاتی ہیں جو سینکڑوں میل دور ملبے کے ڈھیر سے اٹھ رہی ہیں۔ ہم تہران کی خبروں، پابندیوں اور وہاں کی عوامی بے چینی کی بحث میں اتنے مگن ہو گئے ہیں کہ وہ غزہ—جو اس سارے فساد کی اصل وجہ اور عناد کا مرکز تھا—آج تہران کی اس اڑتی ہوئی گرد میں کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے۔ دنیا کی نظریں اب تہران کے جوابی حملوں اور واشنگٹن کے بدلتے لہجوں پر جمی ہیں، جبکہ وہ معصوم لہو جس کے نام پر یہ بساط بچھائی گئی تھی، اب بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں سے آہستہ آہستہ دھندلا رہا ہے۔ یہ تہران کی وہ گرد ہے جس نے غزہ کے اس المیے کو ڈھانپ لیا ہے جسے دنیا نے "کبھی نہ بھولنے" کا عہد کیا تھا۔

​ایرانی ادب اور وہاں کے قہوہ خانوں کی بحثوں میں جب تہران کی اپنی بقا کا سوال اٹھتا ہے، تو غزہ کا وہ تذکرہ جو کبھی پہلی ترجیح تھا، اب صرف ایک سیاسی ضرورت بن کر رہ گیا ہے۔ تہران کی گلیوں میں اڑتی ہوئی یہ گرد دراصل وہ سفارتی دھواں ہے جو اس لیے پھیلایا گیا تاکہ غزہ کی نسل کشی پر پڑنے والی عالمی نظروں کا رخ موڑ دیا جائے۔ آج تہران کی "تہران ڈائری" لکھی جا رہی ہے، اس میں بڑے بڑے ناموں اور ایٹمی معاہدوں کا ذکر تو ملتا ہے، مگر ان بچوں کے خوابوں کی کوئی جگہ نہیں رہی جن کا گوشت اور پوست اس جنگ کا ایندھن بن چکا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جہاں تہران کا سیاسی غبار اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ اب وہاں سے غزہ کے جلتے ہوئے ہسپتال اور تباہ شدہ سکول دکھائی نہیں دیتے۔

​سیاست کی اس بساط پر تہران اور واشنگٹن کے مہرے جب حرکت کرتے ہیں، تو عام آدمی کی توجہ ان "بڑی خبروں" کی طرف مبذول کر دی جاتی ہے، اور یوں غزہ کا وہ زخم جو انسانیت کے ماتھے پر ایک کلنک تھا، اب تہران کی دھول میں اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ گرد یاد دلاتی ہے کہ جب اقتدار کی جنگیں عالمی سطح پر لڑی جاتی ہیں، تو سب سے پہلے ان مظلوموں کو بھلا دیا جاتا ہے جن کے نام پر یہ جنگ شروع کی گئی تھی۔ تہران کی اس ڈائری کا سب سے تاریک پہلو یہی ہے کہ اس کی چکا چوند میں وہ غزہ کہیں کھو گیا ہے جو کبھی اس پوری کہانی کی روح تھا۔ جب تک ہم تہران کی اس مصنوعی گرد کو صاف نہیں کریں گے، ہمیں وہ کچلا ہوا غزہ نظر نہیں آئے گا جو آج بھی خاموشی سے اپنے مسیحا کا منتظر ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی