"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu |
تہران کے آسمان پر جب میزائلوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے اور سفارتی راہداریوں میں ملاقاتوں کا غبار اڑتا ہے، تو اس شور میں وہ سسکیاں کہیں دب جاتی ہیں جو سینکڑوں میل دور ملبے کے ڈھیر سے اٹھ رہی ہیں۔ ہم تہران کی خبروں، پابندیوں اور وہاں کی عوامی بے چینی کی بحث میں اتنے مگن ہو گئے ہیں کہ وہ غزہ—جو اس سارے فساد کی اصل وجہ اور عناد کا مرکز تھا—آج تہران کی اس اڑتی ہوئی گرد میں کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے۔ دنیا کی نظریں اب تہران کے جوابی حملوں اور واشنگٹن کے بدلتے لہجوں پر جمی ہیں، جبکہ وہ معصوم لہو جس کے نام پر یہ بساط بچھائی گئی تھی، اب بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں سے آہستہ آہستہ دھندلا رہا ہے۔ یہ تہران کی وہ گرد ہے جس نے غزہ کے اس المیے کو ڈھانپ لیا ہے جسے دنیا نے "کبھی نہ بھولنے" کا عہد کیا تھا۔
ایرانی ادب اور وہاں کے قہوہ خانوں کی بحثوں میں جب تہران کی اپنی بقا کا سوال اٹھتا ہے، تو غزہ کا وہ تذکرہ جو کبھی پہلی ترجیح تھا، اب صرف ایک سیاسی ضرورت بن کر رہ گیا ہے۔ تہران کی گلیوں میں اڑتی ہوئی یہ گرد دراصل وہ سفارتی دھواں ہے جو اس لیے پھیلایا گیا تاکہ غزہ کی نسل کشی پر پڑنے والی عالمی نظروں کا رخ موڑ دیا جائے۔ آج تہران کی "تہران ڈائری" لکھی جا رہی ہے، اس میں بڑے بڑے ناموں اور ایٹمی معاہدوں کا ذکر تو ملتا ہے، مگر ان بچوں کے خوابوں کی کوئی جگہ نہیں رہی جن کا گوشت اور پوست اس جنگ کا ایندھن بن چکا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جہاں تہران کا سیاسی غبار اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ اب وہاں سے غزہ کے جلتے ہوئے ہسپتال اور تباہ شدہ سکول دکھائی نہیں دیتے۔
سیاست کی اس بساط پر تہران اور واشنگٹن کے مہرے جب حرکت کرتے ہیں، تو عام آدمی کی توجہ ان "بڑی خبروں" کی طرف مبذول کر دی جاتی ہے، اور یوں غزہ کا وہ زخم جو انسانیت کے ماتھے پر ایک کلنک تھا، اب تہران کی دھول میں اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ گرد یاد دلاتی ہے کہ جب اقتدار کی جنگیں عالمی سطح پر لڑی جاتی ہیں، تو سب سے پہلے ان مظلوموں کو بھلا دیا جاتا ہے جن کے نام پر یہ جنگ شروع کی گئی تھی۔ تہران کی اس ڈائری کا سب سے تاریک پہلو یہی ہے کہ اس کی چکا چوند میں وہ غزہ کہیں کھو گیا ہے جو کبھی اس پوری کہانی کی روح تھا۔ جب تک ہم تہران کی اس مصنوعی گرد کو صاف نہیں کریں گے، ہمیں وہ کچلا ہوا غزہ نظر نہیں آئے گا جو آج بھی خاموشی سے اپنے مسیحا کا منتظر ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں