"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

امریکہ میں 'نو کنگز' کا طوفان: کیا وائٹ ہاؤس کی دیواریں لرز رہی ہیں؟

Protest in USA against war with Iran - No Kings slogan - Voice of World Urdu

امریکہ میں 'نو کنگز' کا طوفان: کیا وائٹ ہاؤس کی دیواریں لرز رہی ہیں؟

تحریر:  Voice of World Urdu
ٹیگ لائن: The Twist of Time
تاریخ جب بھی اپنا رخ بدلتی ہے، اس کا شور سڑکوں پر سنائی دیتا ہے۔ آج امریکہ کی سڑکوں سے اٹھنے والا ایک نعرہ "No Kings" (کوئی بادشاہ نہیں) صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسی عوامی تحریک کا اعلان ہے جس نے امریکی اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

امریکی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی احتجاج

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی حالیہ رپورٹس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ امریکہ کے لگ بھگ 3000 سے زائد چھوٹے بڑے شہروں میں لاکھوں افراد نے ایک ساتھ سڑکوں پر نکل کر ٹرمپ انتظامیہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس احتجاج میں 70 لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوئے، جو اسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع بناتا ہے۔

ایران سے کشیدگی اور 'نو کنگز' کا نعرہ

اس احتجاج کی سب سے بڑی وجہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مداخلت کی نئی لہر ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے ٹیکسوں کا پیسہ اور اپنے جوانوں کا خون کسی ایسی جنگ میں نہیں بہنے دیں گے جس کا مقصد صرف سیاسی بالادستی ہو۔
مظاہروں میں گونجنے والا مقبول ترین نعرہ "No Kings" دراصل اس سوچ پر کاری ضرب ہے جہاں منتخب نمائندے 'بادشاہوں' کی طرح من مانی کرنے لگتے ہیں۔ یہ نعرہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکی عوام اب جمہوریت کے نام پر آمریت یا جنگی جنون کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ: کیا پالیسیاں بدلیں گی؟

70 لاکھ افراد کا سڑکوں پر ہونا کسی بھی حکومت کے لیے ڈراؤنا خواب ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ یہ طوفانی تحریک محض ایک احتجاج نہیں بلکہ 'وقت کا وہ موڑ' (The Twist of Time) ہے جہاں اب واشنگٹن کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی پڑے گی۔ اگر عوامی جذبات کو اسی طرح نظر انداز کیا گیا، تو یہ تحریک آنے والے انتخابات کے نتائج کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دے گی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی