"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

ٹرمپ کے ’گوبر بیانات‘ پر ٹیکس کیوں نہیں؟

Donald trump 
Voice of World Urdu 


 ٹرمپ کے ’گوبر بیانات‘ پر ٹیکس کیوں نہیں؟

تحریر : اکرام اللہ عادل 

پنجاب سرکار نے بھینسوں کے گوبر پر ٹیکس کیا لگایا، میرے جیسے کئی فارغ البال شہریوں کے ذہن کے دریچے کھل گئے ہیں اور اب تو عالم یہ ہے کہ جب بھی ٹی وی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل نظر آتی ہے، مجھے ان کے چہرے کے بجائے پنجاب کا وہ کسان یاد آ جاتا ہے جو اپنی بھینس کے پیچھے ٹوکرا لیے پھر رہا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اگر مریم نواز صاحبہ کی انتظامیہ نے زمین کو اس 'قدرتی فضلے' سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھا ہی لیا ہے، تو پھر امریکہ کو بھی چاہیے کہ وہ تھوڑی سی مروت دکھائے اور ٹرمپ کے ان بیانات پر 'عالمی گوبر ٹیکس' نافذ کرے جو وہ صبح شام اپنے منہ سے اگلتے رہتے ہیں۔ آخر انصاف کا ترازو سب کے لیے برابر ہونا چاہیے؛ اگر غریب کسان کی بھینس کا فضلہ قانون کی زد میں ہے، تو ٹرمپ صاحب کا وہ 'سیاسی فضلہ' کیوں آزاد ہے جس نے پوری دنیا کا دماغ سڑا رکھا ہے؟ 'واشنگٹن پوسٹ' کے فیکٹ چیکرز تو بیچارے رو پڑے تھے جب انہوں نے حساب لگایا کہ ٹرمپ نے اپنی صدارت میں 30 ہزار سے زائد مرتبہ سچائی کا ایسا 'گوبر' کیا کہ تاریخ دنگ رہ گئی۔ میری تجویز تو سیدھی سی ہے کہ جیسے ہی ٹرمپ صاحب مائیک سنبھالیں اور کوئی ایسا دعویٰ کریں جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو، فوراً ایک امریکی 'پٹواری' نمودار ہو اور ان کے ہاتھ میں 500 ڈالر کے 'گوبر ٹیکس' کی پرچی تھما دے۔ 'پولیٹیکو' کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ان کے بیانات سے جو تعفن پھیلتا ہے، اسے صاف کرنے کے لیے شاید کوئی بھی میونسپلٹی کافی نہ ہو، کیونکہ بھینس کا گوبر تو پھر بھی کھاد بن کر زمین کو کچھ دے جاتا ہے، مگر ٹرمپ کا یہ 'لفظی فضلہ' تو صرف نفرت کی فصل ہی اگاتا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر پنجاب کا یہ انقلابی ٹیکس فارمولا وائٹ ہاؤس ایکسپورٹ کر دیا جائے، تو امریکہ کا سارا بیرونی قرضہ صرف ٹرمپ کے ایک انتخابی جلسے کے 'گوبر' سے اتارا جا سکتا ہے۔ یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ ایک طرف کسان اپنے جانور کی صفائی کا حساب دے رہا ہے اور دوسری طرف دنیا کا طاقتور ترین انسان بغیر کسی 'ٹیکس' یا جرمانے کے حقائق کا جنازہ نکال رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اب 'انفارمیشن ہائیجین' پر کام ہو اور ٹرمپ جیسے کرداروں کو بتایا جائے کہ بھائی، اب آپ کے منہ سے نکلنے والے ہر 'فضلے' پر ٹیکس لگے گا، تاکہ دنیا کی فضا کم از کم اس ذہنی آلودگی سے تو پاک ہو سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی