"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Voice of World Urdu Manhattan Project |
تحریر و پیشکش: علی رضا
تحریر کا دورانیہ: 4منٹ
یہ کہانی 1789 کے اس مٹیالے اندھیرے سے شروع ہوتی ہے، جب جرمنی کی ایک گمنام لیبارٹری میں مارٹن ہنریچ کلاپروتھ ایک عجیب و غریب چٹان کے ٹکڑے کو دیکھ رہا تھا۔ اسے گمان بھی نہیں تھا کہ وہ جس شے کو محض ایک دھات سمجھ رہا ہے، وہ مستقبل میں انسانیت کے نصیب میں لکھی گئی سب سے ہولناک تباہی کا دوسرا نام بن جائے گی۔ یورینیم—ایک ایسی خاموش حقیقت جسے مٹی کی تہوں میں دفن رہنا چاہیے تھا، مگر انسان کے تجسس نے اس جن کو بوتل سے آزاد کر دیا۔
پھر وقت کا پہیہ گھوما اور بیسویں صدی کی دہلیز پر ایک نحیف سی عورت، میری کیوری نمودار ہوئی۔ اس نے اس پراسرار اندھیرے سے روشنی نچوڑنے کا تہیہ کیا تھا۔ وہ راتوں کو لیبارٹری میں اس تابکار شعاع کے سحر میں گرفتار رہتی، جس کی نیلی چمک اسے کائنات کے راز بتاتی تھی۔ لیکن قدرت کا اصول ہے کہ ہر روشنی کا اپنا سایہ ہوتا ہے۔ میری کیوری کو خبر نہ تھی کہ جس تابکاری (Radioactivity) کو وہ مسخر کر رہی ہے، وہی اسے اندر ہی اندر پگھلا رہی ہے۔ اس کی قربانی نے جہاں سائنس کو نئی بلندی دی، وہاں ایک ایسے راستے کا تعین بھی کر دیا جو سیدھا ہیروشیما کے افق تک جاتا تھا۔
جیسے جیسے عالمی سیاست کے بادل گہرے ہوئے، یہ خاموش دھات 'نیوز کارڈز' اور 'خفیہ فائلوں' کی زینت بن گئی۔ مین ہٹن پراجیکٹ (Manhattan Project) کے بند کمروں میں، جہاں سگار کے دھوئیں میں انسانیت کے قتل کا نقشہ تیار ہو رہا تھا، یورینیم کو ایک مہلک ہتھیار میں ڈھال دیا گیا۔ ٹائپ رائٹروں پر "Top Secret" کے الفاظ ٹائپ ہو رہے تھے اور ضمیروں کی نیلامی جاری تھی۔ ایٹم کو توڑ کر طاقت حاصل کرنے کا جو جنون انسان پر سوار ہوا، اس نے دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیا: وہ جو ایٹم بم کے مالک تھے اور وہ جو اس کے خوف تلے دبے تھے۔
آج، جب ہم جدید دور کے بلند و بالا ایٹمی بجلی گھروں کو دیکھتے ہیں، تو ان کی خاموشی میں ایک عجیب سی دہشت محسوس ہوتی ہے۔ یہ دھند میں لپٹے ٹاور صرف بجلی پیدا نہیں کر رہے، بلکہ اس قدیم چٹان کی یاد دلا رہے ہیں جو آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ یہ یورینیم ہے—وقت کا وہ موڑ (The Twist of Time) جہاں طاقت خود ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے قید کر لیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموش موت صرف اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں