"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

سایوں کا تعاقب: ہجوم کے سراب سے نائیر جرنلزم کے اسرار تک


 

سایوں کا تعاقب: ہجوم کے سراب سے نائیر جرنلزم کے اسرار تک

تحریر : علی رضا 
تحریر کا دورانیہ: 4 منٹ
زندگی کے کئی ماہ و سال میں نے اس غلط فہمی میں گزار دیے کہ ہجوم میری طاقت ہے، ان گنت چہروں کے درمیان خود کو محفوظ پا کر میں نے سمجھا تھا کہ یہ سب میرے اپنے ہیں لیکن جب زندگی کا سورج ڈھلنے لگا اور سائے دیواروں پر دراز ہونے لگے تو حقیقت کا سرد احساس میری ہڈیوں تک اتر گیا، مجھے ادراک ہوا کہ جن کندھوں کو میں نے اپنی ڈھال مانا تھا وہ تو میری اصل کمزوری نکلے، اسی لمحے میں نے کسی شکوے کے بغیر اس شور سے ناطہ توڑ لیا اور خاموشی سے اس بھیڑ سے جدا ہو کر ایک ایسے راستے پر نکل پڑا جہاں صرف میں تھا اور میری تنہائی تھی۔
جب تنہائی کے بادل ضرورت سے زیادہ گہرے ہونے لگے تو میں نے خلا میں گرنے کے بجائے اپنے موبائل کے کی بورڈ سے رشتہ جوڑ لیا اور ٹیکنالوجی کا ہاتھ تھامے لکھنے پڑھنے کی ایک ایسی کائنات میں قدم رکھا جہاں ہر لفظ ایک نیا در وا کرتا تھا، جب بھی میں کچھ لکھنے بیٹھتا تو بچپن میں پڑھے گئے وہ ڈائجسٹ اور جاسوسی کہانیاں میری یادداشت پر دستک دینے لگتیں اور ان کہانیوں کے سحر نے مجھے نائیر جرنلزم کے راستے پر ڈال دیا جہاں کہانی کو بیان کرنے کا انداز پراسرار ہوتا ہے، میرا مقصد خبر کو سنسنی بنا کر اچھالنا نہیں بلکہ اسے اسرار کے ان پردوں میں پیش کرنا ہے جہاں پڑھنے والا خود ایک ایک تہہ کو کھول کر سچ تک پہنچے، میں ایسی کہانیاں بنتا ہوں جو ماضی کے کسی گمشدہ قصے کو حال کی تلخ خبر سے جوڑ دیتی ہیں، یہاں شور مچانے کے بجائے خاموشی سے اپنی بات کہنے کا فن سیکھا جاتا ہے اور یہی میری اصل جدوجہد ہے جو ایک خاموش بھیڑیے کی طرح اپنے صحیح وقت کے انتظار میں جاری ہے۔

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی