جدید مزدور اور بکھری ہوئی مزاحمت: تحریر علی رضا
![]() |
| Voice of World Urdu |
تحریر کا دورانیہ: 4 منٹ
شہر کی روشنیاں اب وہ نہیں رہیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں۔ اب ان میں ایک عجیب سی زردی ہے، جیسے کوئی پرانی نوآر فلم (Noir Film) چل رہی ہو جہاں ہر موڑ پر ایک نیا سایہ جنم لیتا ہے۔ ہوا میں بارود کی بو ہو یا نہ ہو، شکوک و شبہات کی باس ضرور پھیلی ہوئی ہے۔ میں اپنی میز پر بیٹھا ان خبروں کو دیکھ رہا ہوں جو ایک کے بعد ایک اسکرین پر لرز رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ—وہ نام جو خود ایک ڈرامہ ہے—ایک بار پھر سرخیوں میں ہے، لیکن اس بار سرخیوں کا رنگ سرخ ہے، اور وجہ وہی پرانی کہانی: ایک اور حملہ، ایک اور معجزہ۔
سچ پوچھیں تو عقل کے بند کمروں میں یہ بات کسی معمہ سے کم نہیں کہ دنیا کی وہ ریاست، جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی نظر سے سمندر کی تہہ میں چلنے والی مچھلی بھی نہیں بچ سکتی، اپنے ہی ایک اہم مہرے کی حفاظت میں اتنی بار کیسے چوک سکتی ہے؟ یہ کوئی اتفاق نہیں لگتا، بلکہ یہ تو کسی ماہر ہدایت کار کی وہ فلم لگتی ہے جس کے سین اتنی بار ریہرسل کیے گئے ہوں کہ اب وہ حقیقت سے زیادہ پرفیکٹ لگنے لگے ہیں۔ کیا واقعی سیکیورٹی کے حصار اتنے مومی ہیں کہ کوئی بھی راہ چلتا شخص خنجر یا پستول تان کر اس مٹی کے بت تک پہنچ جائے جسے دنیا 'سپر پاور' کہتی ہے؟ یا پھر یہ وہ 'میجیکل جرنلزم' ہے جہاں جادوئی کمالات دکھا کر عوام کی نظروں کو دھوکا دیا جا رہا ہے؟
سیاست کی اس بساط پر 'مظلومیت' سے بڑا کوئی مہرہ نہیں ہوتا۔ جب آپ کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارے کی ضرورت ہو، جب عوام کے سوالات تیکھے ہونے لگیں، تو ایک 'قاتلانہ حملہ' وہ آکسیجن فراہم کرتا ہے جو مردہ سیاست میں بھی جان ڈال دیتا ہے۔ وہ مٹھی تان کر کھڑا ہونا، وہ لہو کے قطرے جو کیمرے کی آنکھ کے لیے بالکل صحیح زاویے پر گرتے ہیں، یہ سب ایک ایسے اسکرپٹ کی یاد دلاتے ہیں جس کا مقصد صرف اور صرف ہمدردی بٹورنا ہے۔
ہم ایک ایسے دور کے قیدی بن چکے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے سچ کو اتنی تہوں میں چھپا دیا ہے کہ اب ہمیں وہی نظر آتا ہے جو ہمیں دکھایا جاتا ہے۔ یہ جدید دور کا وہ شکنجہ ہے جس میں 'بیوقوفوں' کی فوج تیار کی جاتی ہے تاکہ وہ ان سیاسی اسٹنٹس کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لیں۔ سائے گہرے ہیں، اور ان سایوں کے پیچھے چھپے چہرے شاید کبھی منظرِ عام پر نہ آئیں، لیکن ایک بات طے ہے: اس 'وائس آف ورلڈ اردو' میں وقت کا یہ موڑ (The Twist of Time) ہمیں بتا رہا ہے کہ جمہوریت اب صرف ایک اسٹیج ہے، اور ہم سب اس تھیٹر کے وہ تماشائی ہیں جنہیں تالیاں بجانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سچ کہیں گم ہو چکا ہے، شاید کسی بند کمرے کی فائل میں یا کسی طاقتور کے بند ہونٹوں کے پیچھے، اور ہم بس ان سایوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر خالصتاً موجودہ سیاسی صورتحال پر ایک تجزیاتی اور اسلوباتی اظہار ہے، جس کا مقصد واقعے کے پیچھے چھپے نفسیاتی اور سیکیورٹی پہلوؤں پر روشنی ڈالنا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں