جدید مزدور اور بکھری ہوئی مزاحمت: تحریر علی رضا

تصویر
1 may labour day voice of World Urdu   جدید مزدور اور بکھری ہوئی مزاحمت  تحریر علی رضا  تحریر کا دورانیہ: تقریباً 4 منٹ یکم مئی 2026 کی یہ خاموش دوپہر ماضی کے ان پرشور مئی کے مہینوں سے کتنی مختلف ہے جب کارخانوں کے بھاری دروازے کھلتے تھے اور مزدوروں کا ایک سمندر سڑکوں پر نکل کر سرمایہ داری کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ آج سڑکیں شاید اتنی آباد نہیں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ استحصال ختم ہو گیا ہے، بلکہ کارل مارکس نے جس 'بیگانگی'  کا ذکر کیا تھا، وہ آج اپنے بھیانک ترین عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مارکس نے خبردار کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام مزدور کو نہ صرف اس کی محنت کے پھل سے دور کر دیتا ہے بلکہ اسے خود اس کی اپنی ذات اور سماج سے بھی بیگانہ کر دیتا ہے۔ آج کا نوجوان مزدور اسی بیگانگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے جو اپنے کمرے کی چار دیواری میں قید، لیپ ٹاپ کی نیلی روشنی میں گم، دنیا سے کٹ کر ایک ایسی مزدوری کر رہا ہے جس کا سرا اسے خود بھی معلوم نہیں۔ اب ہڑتالیں نہیں ہوتیں کیونکہ اب کوئی 'اجتماعی کارخانہ' نہیں رہا جہاں مزدور ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو س...

کیا سچ مچ موت اس کے تعاقب میں ہے؟ تحریر علی رضا

Voice of World Urdu 

 کیا سچ مچ موت اس کے تعاقب میں ہے؟

 تحریر: علی رضا 

تحریر کا دورانیہ: 4 منٹ

​شہر کی روشنیاں اب وہ نہیں رہیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں۔ اب ان میں ایک عجیب سی زردی ہے، جیسے کوئی پرانی نوآر فلم (Noir Film) چل رہی ہو جہاں ہر موڑ پر ایک نیا سایہ جنم لیتا ہے۔ ہوا میں بارود کی بو ہو یا نہ ہو، شکوک و شبہات کی باس ضرور پھیلی ہوئی ہے۔ میں اپنی میز پر بیٹھا ان خبروں کو دیکھ رہا ہوں جو ایک کے بعد ایک اسکرین پر لرز رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ—وہ نام جو خود ایک ڈرامہ ہے—ایک بار پھر سرخیوں میں ہے، لیکن اس بار سرخیوں کا رنگ سرخ ہے، اور وجہ وہی پرانی کہانی: ایک اور حملہ، ایک اور معجزہ۔

​سچ پوچھیں تو عقل کے بند کمروں میں یہ بات کسی معمہ سے کم نہیں کہ دنیا کی وہ ریاست، جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی نظر سے سمندر کی تہہ میں چلنے والی مچھلی بھی نہیں بچ سکتی، اپنے ہی ایک اہم مہرے کی حفاظت میں اتنی بار کیسے چوک سکتی ہے؟ یہ کوئی اتفاق نہیں لگتا، بلکہ یہ تو کسی ماہر ہدایت کار کی وہ فلم لگتی ہے جس کے سین اتنی بار ریہرسل کیے گئے ہوں کہ اب وہ حقیقت سے زیادہ پرفیکٹ لگنے لگے ہیں۔ کیا واقعی سیکیورٹی کے حصار اتنے مومی ہیں کہ کوئی بھی راہ چلتا شخص خنجر یا پستول تان کر اس مٹی کے بت تک پہنچ جائے جسے دنیا 'سپر پاور' کہتی ہے؟ یا پھر یہ وہ 'میجیکل جرنلزم' ہے جہاں جادوئی کمالات دکھا کر عوام کی نظروں کو دھوکا دیا جا رہا ہے؟

​سیاست کی اس بساط پر 'مظلومیت' سے بڑا کوئی مہرہ نہیں ہوتا۔ جب آپ کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارے کی ضرورت ہو، جب عوام کے سوالات تیکھے ہونے لگیں، تو ایک 'قاتلانہ حملہ' وہ آکسیجن فراہم کرتا ہے جو مردہ سیاست میں بھی جان ڈال دیتا ہے۔ وہ مٹھی تان کر کھڑا ہونا، وہ لہو کے قطرے جو کیمرے کی آنکھ کے لیے بالکل صحیح زاویے پر گرتے ہیں، یہ سب ایک ایسے اسکرپٹ کی یاد دلاتے ہیں جس کا مقصد صرف اور صرف ہمدردی بٹورنا ہے۔

​ہم ایک ایسے دور کے قیدی بن چکے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے سچ کو اتنی تہوں میں چھپا دیا ہے کہ اب ہمیں وہی نظر آتا ہے جو ہمیں دکھایا جاتا ہے۔ یہ جدید دور کا وہ شکنجہ ہے جس میں 'بیوقوفوں' کی فوج تیار کی جاتی ہے تاکہ وہ ان سیاسی اسٹنٹس کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لیں۔ سائے گہرے ہیں، اور ان سایوں کے پیچھے چھپے چہرے شاید کبھی منظرِ عام پر نہ آئیں، لیکن ایک بات طے ہے: اس 'وائس آف ورلڈ اردو' میں وقت کا یہ موڑ (The Twist of Time) ہمیں بتا رہا ہے کہ جمہوریت اب صرف ایک اسٹیج ہے، اور ہم سب اس تھیٹر کے وہ تماشائی ہیں جنہیں تالیاں بجانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سچ کہیں گم ہو چکا ہے، شاید کسی بند کمرے کی فائل میں یا کسی طاقتور کے بند ہونٹوں کے پیچھے، اور ہم بس ان سایوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر خالصتاً موجودہ سیاسی صورتحال پر ایک تجزیاتی اور اسلوباتی اظہار ہے، جس کا مقصد واقعے کے پیچھے چھپے نفسیاتی اور سیکیورٹی پہلوؤں پر روشنی ڈالنا ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی