جدید مزدور اور بکھری ہوئی مزاحمت: تحریر علی رضا

تصویر
1 may labour day voice of World Urdu   جدید مزدور اور بکھری ہوئی مزاحمت  تحریر علی رضا  تحریر کا دورانیہ: تقریباً 4 منٹ یکم مئی 2026 کی یہ خاموش دوپہر ماضی کے ان پرشور مئی کے مہینوں سے کتنی مختلف ہے جب کارخانوں کے بھاری دروازے کھلتے تھے اور مزدوروں کا ایک سمندر سڑکوں پر نکل کر سرمایہ داری کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ آج سڑکیں شاید اتنی آباد نہیں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ استحصال ختم ہو گیا ہے، بلکہ کارل مارکس نے جس 'بیگانگی'  کا ذکر کیا تھا، وہ آج اپنے بھیانک ترین عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مارکس نے خبردار کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام مزدور کو نہ صرف اس کی محنت کے پھل سے دور کر دیتا ہے بلکہ اسے خود اس کی اپنی ذات اور سماج سے بھی بیگانہ کر دیتا ہے۔ آج کا نوجوان مزدور اسی بیگانگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے جو اپنے کمرے کی چار دیواری میں قید، لیپ ٹاپ کی نیلی روشنی میں گم، دنیا سے کٹ کر ایک ایسی مزدوری کر رہا ہے جس کا سرا اسے خود بھی معلوم نہیں۔ اب ہڑتالیں نہیں ہوتیں کیونکہ اب کوئی 'اجتماعی کارخانہ' نہیں رہا جہاں مزدور ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو س...

"امید کی شہزادی" مکران کوسٹل ہائی وے کی داستان


 "امید کی شہزادی" مکران کوسٹل ہائی وے کی داستان 

تحریر کا دورانیہ: 6 منٹ
کوسٹل ہائی وے کی کالی سڑک مکران کے سینے پر کسی تازہ زخم کی طرح بچھی ہوئی تھی، لیکن ہنگول کے سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ ایک مقام ایسا تھا جہاں مشینری کے پہیے اچانک تھم گئے۔ یہ سال 2002 کی ایک سرد رات تھی، جب سمندر کی ہوا پہاڑوں سے ٹکرا کر کسی بین کرتی عورت جیسی آوازیں پیدا کر رہی تھی۔ سڑک بنانے والے مزدور اپنی بستیوں میں دبکے ہوئے تھے، مگر "امید کی شہزادی" کے سائے تلے کچھ ایسا ہو رہا تھا جس کی اجازت کسی مینوئل میں نہیں تھی۔
انجینئر حامد (فرضی نام) اس رات ڈیوٹی پر تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ بھاری بلڈوزرز نے پہاڑ کا ایک ایسا حصہ توڑ دیا ہے جو اندر سے بالکل کھوکھلا تھا۔ "وہ کوئی غار نہیں تھا،" حامد نے برسوں بعد ایک ڈھابہ پر چائے پیتے ہوئے تھرتھراتی آواز میں بتایا، "وہ ایک ہاتھ سے تراشا ہوا راستہ تھا، جس کی دیواروں پر انسانی خون جیسی گہری سرخی سے کچھ ایسی علامتیں بنی تھیں جو دیکھنے والے کی آنکھوں میں چبھتی تھیں۔"
پہاڑ کے اس پیٹ سے جو کچھ برآمد ہوا، وہ محض پتھر نہیں تھے۔ وہاں پیتل کے چند بھاری صندوق تھے جن پر لگی مہریں صدیوں پرانی تھیں۔ اس سے پہلے کہ سورج طلوع ہوتا اور مقامی مزدور کام پر پہنچتے، علاقے کو خاردار تاروں سے سیل کر دیا گیا۔ وہاں کوئی آثارِ قدیمہ کا ماہر نہیں پہنچا، بلکہ کالی وردیوں میں ملبوس وہ لوگ آئے جن کے پاس سوال پوچھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
"ہمیں حکم ملا کہ اس جگہ کو فوری طور پر کنکریٹ سے بھر دیا جائے۔ ہم نے سینکڑوں ٹن سیمنٹ اس کھائی میں انڈیل دیا، مگر وہ خلا بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، جیسے پہاڑ کے نیچے کوئی گہرا کنواں ہو جو سب کچھ نگل رہا ہو۔" — (حوالہ: پروجیکٹ ڈائری کے چند گمشدہ صفحات، مکران کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی)۔
آج اگر آپ مکران ہائی وے پر سفر کریں، تو ہنگول نیشنل پارک کے قریب سڑک اچانک ایک غیر ضروری اور خطرناک موڑ لیتی ہے۔ انجینئرنگ کی رو سے وہ سڑک بالکل سیدھی گزر سکتی تھی، لیکن اسے ایک بڑے پتھریلے ٹیلے کے گرد گھما دیا گیا ہے۔ وہ ٹیلا دراصل اس "سچ" کی قبر ہے جسے وہاں ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا گیا۔
لوگ کہتے ہیں کہ وہاں آج بھی سیمنٹ کی تہوں کے نیچے وہ صندوق موجود ہیں جن میں سکندرِ اعظم کے دور کا وہ راز چھپا ہے جسے منظرِ عام پر لانے کی ہمت آج کی ریاستوں میں بھی نہیں ہے۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں تاریخ کا بہاؤ موڑ دیا گیا تاکہ حال محفوظ رہ سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی