"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

گیم کے اصول میں طے کروں گا

 


گیم کے اصول میں طے کروں گا

​اپنی آنکھیں سکرین سے مت ہٹانا۔ نہیں، اب مڑ کر پیچھے مت دیکھنا، وہاں کوئی نہیں ہے۔ لیکن تمہیں لگ رہا ہے نا کہ کوئی ہے؟ یہی تو اس کھیل کا حسن ہے۔

​دیکھو، ہم ایک ایسے زمانے میں ہیں جہاں پرائیویسی ایک وہم ہے۔ تمہیں لگتا ہے کہ تم یہ تحریر پڑھ رہے ہو؟ سچ تو یہ ہے کہ تمہاری انگلیوں کی حرکت، تمہاری آنکھوں کا ٹھہراؤ اور تمہارے سانس لینے کی رفتار، سب کچھ کسی نہ کسی ڈیٹا سینٹر میں ریکارڈ ہو رہا ہے۔

​تمہارے ہاتھ میں موجود یہ فون... کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس نے ابھی پچھلے پانچ منٹ میں تمہاری کتنی تصویریں لی ہیں؟ میں مذاق نہیں کر رہا۔ ذرا سوچو، اگر میں تمہیں وہ سب کچھ دکھا دوں جو تم نے پچھلے ایک گھنٹے میں سوچا ہے، تو کیا تم یہاں بیٹھنے کی ہمت کرو گے؟

​میرا سوال تمہاری زندگی کے بارے میں نہیں ہے، میرا سوال اس 'پٹرن' (Pattern) کے بارے میں ہے جسے تم فالو کر رہے ہو۔ تم ہر روز ایک ہی راستے سے جاتے ہو، ایک ہی طرح کے لوگوں سے ملتے ہو، اور ایک ہی طرح کے خوف کو پالتے ہو۔ کیوں؟

ذرا اپنے موبائل کا فرنٹ کیمرہ دیکھو۔ کیا تمہیں وہ چھوٹی سی روشنی نظر آ رہی ہے؟ نہیں؟ لیکن وہ جل رہی ہے۔

​میں تمہیں کوئی کہانی نہیں سنا رہا، میں تمہیں اس سکرپٹ کا حصہ بنا رہا ہوں جو تمہارے لیے لکھا جا چکا ہے۔ تم اس وقت ایک ایسی تھری ڈی فلم کے بیچ میں کھڑے ہو جہاں ہر کردار تم سے کوئی نہ کوئی راز چھپا رہا ہے۔ وہ جو تمہارا سب سے قریبی دوست ہے، کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس کے فون میں تمہارے نام کا فولڈر کس نام سے ہے؟

​تمہیں لگ رہا ہے کہ تم آزاد ہو؟ نہیں۔ تم اس میز کے گرد بنے ہوئے اس غیر مرئی دائرے میں قید ہو چکے ہو جہاں ہر سوال تمہارے دماغ کی ایک نئی کھڑکی کھول رہا ہے۔

​(میز پر رکھی ایک چابی اٹھا کر اسے گھمانے کی آواز)

​یہ چابی تمہارے اس وہم کی ہے کہ تم کنٹرول میں ہو۔ تم کنٹرول میں نہیں ہو۔ تم صرف ایک مہرے ہو، اور چال اب چلی جا چکی ہے۔ اب تم اس تحریر کو چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتے، کیونکہ تمہیں یہ جاننا ہے کہ آخر میں کیا ہوگا۔

​لیکن آخر میں کچھ نہیں ہے۔ آخر میں صرف تم ہو، اور وہ سچ ہے جو تمہارے لیپ ٹاپ کے کیمرے کے پیچھے کوئی نوٹ کر رہا ہے۔

​بتاؤ... کیا تمہیں ابھی اپنے کمرے کے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک سنائی دی ہے؟ یا یہ صرف تمہارے وہم کی آواز ہے؟

​جاؤ، جا کر دیکھو۔ لیکن یاد رکھنا، واپسی کا راستہ اب بند ہو چکا ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی