"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

بریخت کا انسانی مجسمہ: "شہنشاہوں کی بساط اور بے نام سپاہی"

 

Strait of Hormuz Geopolitics Conceptual Art

بریخت کا انسانی مجسمہ: "شہنشاہوں کی بساط اور بے نام سپاہی"

تحریر : علی رضا 

رات کے پچھلے پہر جب خاموشی حد سے بڑھ جائے، تو تاریخ کے کالے صفحات سے کچھ سائے ابھرتے ہیں۔ برتولٹ بریخت نے دہائیوں پہلے ایک ایسے ہی سائے کی نشاندہی کی تھی جسے وہ "انسانی مجسمہ" کہتا تھا۔ یہ وہ مجسمہ ہے جو صدیوں سے شہنشاہوں کے درباروں کے باہر ساکت کھڑا ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں، اس کے لبوں پر کوئی سوال نہیں، وہ بس ایک حکم کا منتظر ہے۔
‎تاریخ کے اس تاریک منظر نامے میں، یہ مجسمہ ہی وہ ایندھن ہے جس نے فرعون کو فرعونیت بخشی اور سکندر کو کائنات کی شہنشاہی۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ تاریخ کی کتابوں میں اس کا نام کبھی درج نہیں ہوتا، اسے بس ایک "سپاہی" کے عمومی عنوان سے پکارا جاتا ہے۔ وہ سپاہی جس کا اس بادشاہت کے محلات، جائیدادوں یا تخت و تاج میں کوئی حصہ نہیں، لیکن اس کا گرم لہو اس بادشاہت کی بنیادوں کو مضبوط رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
‎بریخت کا وہ سپاہی آج پھر سرگرمِ عمل نظر آتا ہے۔ جب ہم آج کی خبروں میں آبنائے ہرمز کی لہروں پر امریکی میرینز کی بھاری نفری اور جنگی جہازوں کا گھیرا دیکھتے ہیں اور دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب کے سپاہی ، تو وہی "انسانی مجسمہ" یاد آ جاتا ہے۔ یہ سپاہی صدیوں سے اپنا خون بہا رہا ہے اور آج پھر اسے شطرنج کے ایک مہرے کی طرح بساطِ عالم پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
‎مقصد آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا، تاکہ "شہنشاہ" سلامت رہے اور "شہنشاہی" قائم رہے۔ بساط بدل چکی ہے، کھلاڑی بدل چکے ہیں، مگر مہرہ وہی پرانا "انسانی مجسمہ" ہے جو چپ چاپ اگلے حکم کے انتظار میں ایک نئی جنگ کی دہلیز پر ایستادہ ہے


تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی