"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Strait of Hormuz Geopolitics Conceptual Art |
رات کے پچھلے پہر جب خاموشی حد سے بڑھ جائے، تو تاریخ کے کالے صفحات سے کچھ سائے ابھرتے ہیں۔ برتولٹ بریخت نے دہائیوں پہلے ایک ایسے ہی سائے کی نشاندہی کی تھی جسے وہ "انسانی مجسمہ" کہتا تھا۔ یہ وہ مجسمہ ہے جو صدیوں سے شہنشاہوں کے درباروں کے باہر ساکت کھڑا ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں، اس کے لبوں پر کوئی سوال نہیں، وہ بس ایک حکم کا منتظر ہے۔
تاریخ کے اس تاریک منظر نامے میں، یہ مجسمہ ہی وہ ایندھن ہے جس نے فرعون کو فرعونیت بخشی اور سکندر کو کائنات کی شہنشاہی۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ تاریخ کی کتابوں میں اس کا نام کبھی درج نہیں ہوتا، اسے بس ایک "سپاہی" کے عمومی عنوان سے پکارا جاتا ہے۔ وہ سپاہی جس کا اس بادشاہت کے محلات، جائیدادوں یا تخت و تاج میں کوئی حصہ نہیں، لیکن اس کا گرم لہو اس بادشاہت کی بنیادوں کو مضبوط رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
بریخت کا وہ سپاہی آج پھر سرگرمِ عمل نظر آتا ہے۔ جب ہم آج کی خبروں میں آبنائے ہرمز کی لہروں پر امریکی میرینز کی بھاری نفری اور جنگی جہازوں کا گھیرا دیکھتے ہیں اور دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب کے سپاہی ، تو وہی "انسانی مجسمہ" یاد آ جاتا ہے۔ یہ سپاہی صدیوں سے اپنا خون بہا رہا ہے اور آج پھر اسے شطرنج کے ایک مہرے کی طرح بساطِ عالم پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مقصد آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا، تاکہ "شہنشاہ" سلامت رہے اور "شہنشاہی" قائم رہے۔ بساط بدل چکی ہے، کھلاڑی بدل چکے ہیں، مگر مہرہ وہی پرانا "انسانی مجسمہ" ہے جو چپ چاپ اگلے حکم کے انتظار میں ایک نئی جنگ کی دہلیز پر ایستادہ ہے
Great piece of writing expounding on the metaphorical state of .contemporary affairs
جواب دیںحذف کریں