"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| Trump Iran Tension voice of World Urdu |
شہر کی فضاؤں میں ایک ایسی بوجھل خاموشی ہے جو طوفان کے آنے سے پہلے پرندوں کو پر سمیٹنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ واشنگٹن کے ایوانوں سے نکلنے والی ایک ایک سطر ایران کے بجلی گھروں اور اسٹریٹجک پلوں کے گرد کسی شکاری جال کی طرح بنتی جا رہی ہے۔ آج منگل کی وہ تاریخ ہے، جسے کلینڈر پر شاید سرخ روشنائی سے نہیں بلکہ کوئلے کی سیاہی سے لکھا جائے گا۔ "آج کا دن تباہی کا دن ہوگا"—یہ الفاظ جب ہوا کے دوش پر تہران پہنچے تو وہاں کی روشنیاں شاید اسی خوف سے تھرتھرانے لگی تھیں کہ کہیں یہ ان کی آخری چمک نہ ہو۔ جب ہم امریکی ایران کشیدگی (US-Iran Tension) کے پس منظر میں ان دھمکیوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت ایک ایسے بند گلی کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں پیچھے مڑنے کا راستہ کسی نے نہیں چھوڑا۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے نیلگوں پانیوں پر اب جہازوں کے سائے نہیں، بلکہ جنگی بیڑوں کی پرچھائیاں رقص کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان بجلی گھروں پر حملہ ہوا تو یہ صرف ایک ملک کا اندھیرا نہیں ہوگا، بلکہ اس کی تپش عالمی معیشت کے بخار کو اس حد تک بڑھا دے گی کہ دنیا کے بڑے بڑے بازار دھڑام سے نیچے آ گریں گے۔ کسی بھی ریاست کے سویلین ڈھانچے کو نشانہ بنانا محض فوجی برتری نہیں، بلکہ ان بین الاقوامی ضوابط کے پرخچے اڑانے کے مترادف ہے جو ہمیں جنگل کے قانون سے الگ کرتے ہیں۔ الجزیرہ کی حالیہ رپورٹیں گواہی دے رہی ہیں کہ اس بارود کی بو نے عام انسانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب محلوں میں فیصلے ہوتے ہیں تو جھونپڑیوں کے چراغ سب سے پہلے گل ہوتے ہیں۔
حقیقت کی یہ تصویر کسی ایسی فلم کی طرح ہے جہاں ہیرو اور ولن کی تمیز مٹ چکی ہے اور صرف طاقت کا وہ ننگا ناچ باقی رہ گیا ہے جس کا انجام راکھ کے سوا کچھ نہیں۔ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی (Iran's Retaliation) کا تصور ہی ایک ایسے معاشی زلزلے کو جنم دے رہا ہے جس کی لہریں سمندروں پار تک محسوس کی جائیں گی۔ اب سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا، سوال یہ ہے کہ کیا اس تباہی کے بعد کوئی ایسا گواہ بچے گا جو یہ بتا سکے کہ قصور کس کا تھا؟ منگل کی یہ رات گزر جائے گی، لیکن پیچھے رہ جانے والے سائے شاید کبھی ختم نہیں ہوں گے۔
:مزید پڑھیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں