"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو

تصویر
Mysterious Shrine Atmosphere  "درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر"  تحریر :وائس آف ورلڈ اردو  تحریر کا دورانیہ: 3 منٹ شہر کی آخری حد پر جہاں روشنیاں دم توڑتی ہیں اور مزاروں کے گنبدوں سے لپٹی اگر بتیوں کا دھواں فضا میں ایک پراسرار جال بنتا ہے، وہاں زندگی کے دو متوازی رخ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس سیاہ و سفید منظر نامے میں جہاں عقیدت مندوں کی قطاریں کسی غیبی مدد کی تلاش میں ساکن چوکھٹوں سے سر ٹکراتی ہیں، وہاں دہلیز پر بیٹھے وہ میلے کچیلے وجود ایک ایسی سچائی کا ادراک رکھتے ہیں جو شاید بڑے بڑے دانشوروں کی گرفت میں نہ آ سکے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ درگاہوں کے زائرین سے زیادہ وہاں کے بھکاری ذہین ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندوں سے مانگتے ہیں۔ یہ محض ایک طنز نہیں بلکہ انسانی جبلت کا وہ برہنہ سچ ہے جو ہمیں تحقیقاتی صحافت کے اس موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں ہم معجزوں اور مادیت کے درمیان لگی باریک لکیر کو محسوس کر سکیں۔ اندر ہال میں بیٹھا زائر ماضی کے کسی پچھتاوے یا مستقبل کے کسی خوف کی زنجیر میں جکڑا ہوا ایک ایسی ہستی سے مخاطب ہے جو مادی دنیا کے حساب کتاب سے آزاد ہو چکی ہے، جبکہ باہر ...

منگل کی سیاہ ساعتیں: آسمان سے بارود کا فیصلہ اترنے کا انتظار۔۔۔۔

Trump Iran Tension voice of World Urdu 

 منگل کی سیاہ ساعتیں: آسمان سے بارود کا فیصلہ اترنے کا انتظار۔۔۔۔

تحریر: علی رضا 

شہر کی فضاؤں میں ایک ایسی بوجھل خاموشی ہے جو طوفان کے آنے سے پہلے پرندوں کو پر سمیٹنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ واشنگٹن کے ایوانوں سے نکلنے والی ایک ایک سطر ایران کے بجلی گھروں اور اسٹریٹجک پلوں کے گرد کسی شکاری جال کی طرح بنتی جا رہی ہے۔ آج منگل کی وہ تاریخ ہے، جسے کلینڈر پر شاید سرخ روشنائی سے نہیں بلکہ کوئلے کی سیاہی سے لکھا جائے گا۔ "آج کا دن تباہی کا دن ہوگا"—یہ الفاظ جب ہوا کے دوش پر تہران پہنچے تو وہاں کی روشنیاں شاید اسی خوف سے تھرتھرانے لگی تھیں کہ کہیں یہ ان کی آخری چمک نہ ہو۔ جب ہم امریکی ایران کشیدگی (US-Iran Tension) کے پس منظر میں ان دھمکیوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت ایک ایسے بند گلی کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں پیچھے مڑنے کا راستہ کسی نے نہیں چھوڑا۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے نیلگوں پانیوں پر اب جہازوں کے سائے نہیں، بلکہ جنگی بیڑوں کی پرچھائیاں رقص کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان بجلی گھروں پر حملہ ہوا تو یہ صرف ایک ملک کا اندھیرا نہیں ہوگا، بلکہ اس کی تپش عالمی معیشت کے بخار کو اس حد تک بڑھا دے گی کہ دنیا کے بڑے بڑے بازار دھڑام سے نیچے آ گریں گے۔ کسی بھی ریاست کے سویلین ڈھانچے کو نشانہ بنانا محض فوجی برتری نہیں، بلکہ ان بین الاقوامی ضوابط کے پرخچے اڑانے کے مترادف ہے جو ہمیں جنگل کے قانون سے الگ کرتے ہیں۔ الجزیرہ کی حالیہ رپورٹیں گواہی دے رہی ہیں کہ اس بارود کی بو نے عام انسانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب محلوں میں فیصلے ہوتے ہیں تو جھونپڑیوں کے چراغ سب سے پہلے گل ہوتے ہیں۔

​حقیقت کی یہ تصویر کسی ایسی فلم کی طرح ہے جہاں ہیرو اور ولن کی تمیز مٹ چکی ہے اور صرف طاقت کا وہ ننگا ناچ باقی رہ گیا ہے جس کا انجام راکھ کے سوا کچھ نہیں۔ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی (Iran's Retaliation) کا تصور ہی ایک ایسے معاشی زلزلے کو جنم دے رہا ہے جس کی لہریں سمندروں پار تک محسوس کی جائیں گی۔ اب سوال یہ نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا، سوال یہ ہے کہ کیا اس تباہی کے بعد کوئی ایسا گواہ بچے گا جو یہ بتا سکے کہ قصور کس کا تھا؟ منگل کی یہ رات گزر جائے گی، لیکن پیچھے رہ جانے والے سائے شاید کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

              :مزید پڑھیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اگ برستا آسمان اور قید ہوتی ویڈیوز: مشرقِ وسطیٰ کا ڈیجیٹل بلیک آؤٹ

پنجاب میں پیٹرولیم بحران: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بڑے فیصلے اور 'تعلیمی ادارے بند'

فائل 404: وہ ٹرین جو تاریخ کے نقشے سے مٹ گئی