"درگاہوں کا شور اور خاموش سوداگر" تحریر : وائس آف ورلڈ اردو
![]() |
| World War 3 Voice of World Urdu |
مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی تصادم کا خطرہ: کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر ہے؟
تحریر و تحقیق: اکرام اللہ عادل
تحریر کا دورانیہ:6 منٹ
مشرقِ وسطیٰ کی زمین اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں محض ایک چنگاری پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے کافی ہے، اور حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی براہِ راست کشیدگی نے ان خدشات کو حقیقت کا رنگ دے دیا ہے۔ عالمی دفاعی تجزیہ کاروں اور "انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز" کی رپورٹس کے مطابق، اب جنگ محض پراکسیز تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ کے امکانات اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک جنگی حکمتِ عملی کے طور پر زیرِ بحث آنے لگا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین رخ اختیار کر گئی جب اسرائیلی اور امریکی عسکری حلقوں میں ایران کی ایٹمی تنصیبات، بالخصوص نتنز اور فوردو کے مراکز پر حملوں کی بازگشت سنائی دی، جس کے جواب میں تہران کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ اگر اس کی بقا کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنی دفاعی پالیسی میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق تبدیلی لانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
"دی گارڈین" اور "نیویارک ٹائمز" جیسے معتبر عالمی جریدوں نے اپنی حالیہ اشاعتوں میں اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ایران کے پاس یورینیم کی افزودگی اب اس درجے تک پہنچ چکی ہے جہاں اسے ایٹمی ہتھیار کی تیاری سے دور رکھنا ایک کٹھن چیلنج بن چکا ہے۔ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو یہ عمل مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی لہر پیدا کرے گا جس کی زد میں نہ صرف تیل کی سپلائی لائنز آئیں گی بلکہ ایٹمی تابکاری کے خطرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ تہران کی جانب سے "فٹویٰ" کے برعکس ایٹمی ہتھیاروں کی جانب مائل ہونے کا کوئی بھی اشارہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ ایک بار جب یہ جن بوتل سے باہر آ گیا تو اسے واپس دھکیلنا ناممکن ہوگا۔ "رائٹرز" کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکام کا یہ حالیہ موقف کہ "دشمن نے مجبور کیا تو ایٹمی ڈاکٹرائن تبدیل ہو سکتی ہے"، دراصل اس عالمی دباؤ کا ردِعمل ہے جو اسے معاشی اور عسکری طور پر دیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس تمام تر منظرنامے میں سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ اگر ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں ایٹمی کارڈ کھیلا گیا، تو یہ محض علاقائی تنازع نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسی عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا جس میں روس اور چین جیسے بڑے کھلاڑیوں کی شمولیت ناگزیر ہو جائے گی۔ "فارن افیئرز" میگزین کے تجزیے کے مطابق، امریکہ کے لیے ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا مطلب افغانستان یا عراق سے کہیں بڑا دلدل ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ایٹمی تنصیبات پر حملہ الٹا امریکہ کے اپنے علاقائی اڈوں اور مفادات کے لیے خودکش ثابت ہوگا۔ دنیا اس وقت سانس روکے اس تنے ہوئے رسے پر جاری کھیل کو دیکھ رہی ہے جہاں ایک طرف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے سائے گہرے ہو رہے ہیں اور دوسری طرف عالمی سفارت کاری اپنی آخری ہچکیاں لے رہی ہے، جو انسانیت کو ایک ایسی تباہی کی جانب دھکیل سکتی ہے جس کا تصور بھی محال ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں